تذکرۃ المہدی — Page 135
تذكرة المحمدي 135 ہیں تو کیا یہودیوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں درخت تو اپنے پھل سے ہی پہچانا جاتا ہے۔مولوی غلام نبی صاحب کا بیعت کرنا الغرض بود میانہ شہر میں مولوی غلام نبي صاحب خوشابی کی دہوم مچ گئی اور جابجا ان کے علم و فضل کا چرچا ہونے لگا اور مولوی نوری غلام نبی صاحب نے بھی حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں کوئی بات اٹھا نہیں رکھی اور آیتوں پر آیتیں اور حدیثوں پر حدیثیں ہر وعظ میں مسیح علیہ السلام کی حیات کی نسبت پڑھنے لگے۔خدا کی قدرت کے قربان حضرت عمر انه آنحضرت ﷺ کے قتل کے لئے چلے آپ ہی قتل ہو گئے۔اور پھر آپ کا وجود باجود آیت اللہ ٹھہرا اور فاروق اعظم کہلائے اور الشَّيْطَانُ يُفِرُّ مِنْ ظِلَّ عُمَرَ اللہ کے پیارے نے فرمایا اور خود اللہ نے فرمایا ایک روز اتفاق سے اسی محلہ میں کہ جس محلہ میں حضرت اقدس علیہ السلام تشریف فرما تھے مولوی صاحب کا وعظ تھا ہزاروں آدمی جمع تھے اور اس وعظ میں جتنا علم تھا وہ سب ختم کر دیا اور لوگوں کے تحسین و آفرین کے نعرے لگنے لگے اور مرحبا و صل علی چاروں طرف سے شور اٹھا۔اس وعظ میں لودھیانہ کے تمام مولوی موجود تھے اور ان کے حسن بیان اور علم کی بار بار داد دیتے تھے اور مولوی محمد حسن اور مولوی شاہ دین اور مولوی عبد العزیز اور مولوی محمد اور مولوی عبداللہ اور دو چار اور مولوی جو بیرد نجات سے مولوی غلام نبی صاحب کے علم کی شہرت اور علمی لیاقت اور خداداد قابلیت کے شوق میں آئے ہوئے تھے حاضر تھے کیونکہ یہ خاص وعظ تھا یہ سب نعرے اور شور مرحبا ہمارے کانوں تک پہنچ رہا تھا اور ہم پانچ چار آدمی چپکے چکے بیٹھے تھے اور دل اندر سے کڑھتا تھا اور کچھ ہمارا بس نہ چلتا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام زنانہ میں تھے اور کتاب ازالہ اوہام کا مسودہ تیار کر رہے تھے مولوی صاحب وعظ کہہ کر اور پوری مخالفت کا زور لگا کر چلے اور ساتھ ساتھ