تذکرۃ المہدی — Page 131
تذكرة المهدي 131 اول نہ دیا صرف اس قدر لکھا کہ انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہو سکتا ہوں پھر میں نے دو تین خط بھیجے جواب ندارد ایک طرف مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور نسوی اور بریلوی صاحبوں سے خط و کتابت اور دو سری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ کی تیاری تھی جو اتفاق سے مولوی غلام نبی صاحب ! ساکن خوشاب علاقہ پنجاب سے لودھیانہ میں آگئے اور لاہور سے ایک مولوی رحیم بخش صاحب بھی آگئے یہ تو آتے ہی مصدق ہو گئے اور بڑی عمدہ عمدہ میٹھی میٹھی باتیں کیا کرتے تھے۔انہوں نے بیعت کی اور کہا کہ مجھے ایک بات آپ کی طرف کھینچ کر لائی اور وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں علاوہ فسق و فجور اور کثرت معاصی کے یہ واقعہ بھی گزرا کہ ایک گاؤں میں ایک مسلمان نمازی اور حاجی تھا اس کے ایک لڑکی تھی میں برس کی عمر تک پہنچ گئی اس کی شادی نہیں کی اور اس کے باپ نے بیٹی سے خود تعلق پیدا کر لیا۔ایک روز وہ لڑکی رو رہی تھی عورتیں اس سے (کیونکہ یہ راز محلہ والوں پر کھل چکا تھا) پوچھ رہی تھیں کہ آج کیوں روتی ہے کیا تیرے یار نے (باپ نے مارا ہے اور میں بھی اس وقت اس جگہ آنکلا تب مجھے یہ حدیث کچی معلوم ہوئی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت یہود خصلت ہو جائے گی اور جو کام یہود نے کئے تھے یہ بھی طابق النعل بالنعل کرے گی اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئی ہوگی تو میری امت بھی مجھے گی اور جو ماں سے زنا کیا تو یہ بھی کرے گی۔سو یہ پیشینگوئی میں نے اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھ لی۔میں اس انتظار میں تھا کہ امت تو یہودی بن چکی ہے اب اس کے مقابل پر مسیح کب بنے گی سو الْحَمْدُ لِللہ آپ کا اشتہار جس کی یہ سرخی تھی کہ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ يُحْيِي مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ پنچا تو میں آپ کی تصدیق اور آپ سے بیعت کے لئے حاضر ہوا اب یہاں اگر معلوم ہوا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی آپ سے مباحثہ کے لئے آئے ہیں وہ زمینی اور آپ آسمانی وہ کہاں مباحثہ کی طاقت رکھتا ہے۔اور جو مقابل پر آئے گا پسپا ہوگا