تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 115 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 115

تذكرة المحمدي 115 سب طرح راضی اور خوش ہیں۔شیر نے کہا واہ رے دانشمند گید ڈیہ حکمت اور سراسر ادب کی بات تجھے کس نے سکھائی یہ تو تو نے بہت ہی اچھی بات سنائی گیدڑ نے دست بستہ عرض کی کہ یہ حکمت بھیڑکے نے سکھائی ہے اس کی جان بیہودہ اور خلاف مرضی حضور بات کرنے سے گئی اور مجھ کو سمجھ پیدا ہو گئی۔یہ حکایت حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمائی اور پھر فرمایا کہ دیکھو بھیڑیوں کی طرح کتنی قو میں کتنے قبلے کتنے شہر کتنے گاؤں شیروں یعنی انبیا کے مقابلہ میں گستاخ اور بے ادب بن کر ان کی دشمنی میں ہلاک ہوئے تباہ ہوئے۔برباد ہوئے دنیا بھی گئی اور دین بھی گیا سب کچھ کھو بیٹھے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی اولم يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَاكِيهِمْ إِنَّ في ذَلِكَ لَآيَاتٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ اب ہمارے زمانہ کے لوگوں کو جو سب کے بعد ہوئے کچھ تو آنکھیں کھولنی چاہئیں تھیں کچھ تو سمجھ پیدا کرنی چاہئے تھی ان کے واسطہ یہ وقت بہت اچھا تھا کہ گیدڑ کی طرح نصیحت پکڑتے عبرت حاصل کرتے مگریہ اور بھی عداوت میں مخالفت میں شرارت میں ایڈا دہی میں سب وشتم کرنے میں قتل وغارت کے منصوبے کرنے میں کئی پہلوؤں سے اگلے لوگوں سے بھی زیادہ قدم بڑھایا۔خدا تعالی ہماری نیت اور صفائی قلب دیکھ رہا ہے اور ان لوگوں کی بدظنی اور بدنیتی اور شرارت بھی اس کی نظر میں ہے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح نے حسب الحکم وعظ فرمایا اس میں اکثر حضرت اقدس کی تائید میں اور باقی آریوں اور نصاری کے رد اور ان اعتراضوں کے جواب میں جو انہوں نے نادانی سے اسلام اور قرآن اور آنحضرت ا پر کئے ہیں تقریر فرمائی۔جناب مولوی برہان الدین صاحب علمی بیمار تھے اور ان کے کئی شاگردان۔