تذکرۃ المہدی — Page 110
تذكرة المهدي 110 مرزا صاحب تو کسی کے مرید نہیں ہیں کسی سلسلہ میں نہیں ہیں۔میں نے بطور سوال کے جواب دیا کہ یہ بتلاؤ جو تمہارے ذہن میں امام مہدی ہیں اگر وہ آجائیں تو وہ کس سلسلہ میں اور کس کے مرید ہوں گے اور ان کے آنے پر ان سے بیعت کرنا ضروری ہو گا یا نہیں اس شخص نے کہا کہ امام مہدی کو کسی سلسلہ میں داخل ہونے یا کسی سے مرید ہونے کی کیا ضرورت ہے وہ تو خود امام ہیں ان سے تو سب کو بیعت کرنا ضروری کیا فرض ہو گا بس اس کے جواب میں میں نے کہا کہ وہ امام مهدی حضرت اقدس مرزا صاحب ہی ہیں جب یہ امام مہدی ہوئے تو ان کو کسی سے بیعت یا کسی سلسلہ میں داخل ہونے کی کیا ضرورت ہے بلکہ سلسلہ والوں کو چاہئے کہ ان سے بیعت کریں اور یہ سلسلہ والے کیا حقیقت رکھتے ہیں۔اگر خود صاحب سلسلہ شخص موجود ہوتے تو وہ بھی دور دراز ملکوں سے ہاتھوں کے بل چل کر آتے۔اور اس امام موعود علیہ السلام سے بیعت کرتے اور چار قطب امام اعظم اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت محی الدین عبد القادر جیلانی وغیرہ ہوتے تو ان کو بھی سوائے بیعت کے کچھ بن نہ پڑتا اس شخص نے کہا ہے۔چڑ کر کیا مرزا صاحب کا رتبہ ان بزرگوں سے بڑا ہے میں نے کہا سچائی - در حقیقت مرزا صاحب کا رتبہ ان سب سے بڑا ہے (اس وقت عاجز کی معلومات وسیع نہیں تھی۔یہیں تک بات رہنے دی درنہ آج کی معلومات کے مطابق میں بڑے زور اور نہایت مشرح صدر سے کہتا ہوں کہ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ الانبیا، چنانچہ حدیث شریف میرے اس بیان کی تصدیق کرتی ہے جیسا کہ فرمایا علَمَاءُ أُمَّتِي كَانَبِيَاء بَنِي إِسْرَائِيل كاف تشبیہ مماثلت کبھی زیادتی کیلئے آتا ہے یعنی ترقی مراتب کیلئے اور امام مہدی کو مثیل مصطفی و مظهر محمد علیهما الصلوة والسلام تمام امت نے مانا ہے تو اس لحاظ سے بھی حضرت مرزا صاحب کے رتبہ کا جانتا اور ماننا ضروری ہے در حقیقت ہر ایک انسان کیلئے ترقی ہر آن ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نئے نئے قادیان شریف میں طالب