تذکرۃ المہدی — Page 9
تذكرة المهدى 9 کہا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کو بلوایا اور دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ انہوں نے کسی عورت سے سنا ہے تب حضرت اقدس علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ سمجھنے میں غلطی رہی ہم نے تو کل یہ بیان کیا تھا کہ تمباکو پینے اور کھانے کی نسبت بہت آدمی دریافت کرتے ہیں کہ یہ حرام ہے یا مکروہ یا جائز سو ہماری جماعت کے لوگوں کو معلوم رہے کہ ہر ایک لغو چیز سے حتی الامکان بچتا اور پر ہیز کرنا لازم ہے ہم کوئی نئی شریعت نکالنا نہیں چاہتے۔جو کسی چیز کی حلت و حرمت کا فتوئی بغیر ولا ئل اپنی طرف سے دیں۔یہ تو ان دابتہ الارض مولویوں کا کام ہے کہ اپنی طرف سے نئی شریعت ایجاد کرتے ہیں۔اور الٹا ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم مدعی نبوت ہیں وہ ذرا سوچیں تو معلوم ہو کہ مدعی نبوت در سالت کون ہے ہم یا وہ جس چیز کی حلت و حرمت کا ذکر شریعت میں نہ ہو اور آنحضرت سے ایک بات ثابت نہ ہو تو ہم خوامخواہ گھسیٹ گھساٹ کر شریعت میں لاڈالیں سوائے اس کے اور ہم کچھ نہیں کہتے کہ لغو کام ہے اگر یہ آنحضرت کے زمانہ میں ہوتا تو آپ ہی پیش از میں نسبت کہ اس کے لغو ہونے کا ہی حکم دیتے اور کچھ نہیں پھر فرمایا کہ تم کھاتے ہو میں نے کہا حضور قدر قلیل ایک یا دو رتی پان میں کھاتا ہوں فرمایا کہ کتنی مدت سے عرض کیا پانچ چھ سال سے فرمایا کیوں کھاتے ہو عرض کیا دانتوں کے درد کے سبب سے چونکہ کاپی لکھنے کے وقت منہ نیچے رہتا ہے تو نزلہ اور زکام کا زور ہو جاتا ہے یہ منہ میں رہتا ہے تو درد موقوف رہتا ہے۔آپ نے ہنسکر فرمایا کہ چھوٹ نہیں سکتا میں نے عرض کیا کہ چھوٹ تو سکتا ہے لیکن دانتوں میں درد ہو جاتا ہے۔فرمایا چند روز بیش کھاؤ (جس کو میٹھا تیلیا بھی کہتے ہیں) یہ بھی ایک زہر ہے جب ہر روز ہر مل جا دیں گے تو پھر یہ ہر دو خبیث مل کر چھوٹ جائیں گے میں نے پھر عرض کیا کہ چھوڑنے میں تو کوئی دقت نہیں صرف دانتوں کے درد کا خیال ہے حضور نے تو دیکھا ہے کہ رمضان شریف کے میں نے گیارہ روزے رکھے صرف دن کو زردہ نہیں کھایا