تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 37 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 37

تذكرة المهدى 37 فرمایا وہ حکایت سناؤ تم کو حکایتیں خوب یاد ہیں میں نے عرض ایک حکایت کیا کہ ایک شخص اپنی ضعیفہ والدہ کو حج کرانے کے لئے ملکہ شریف گیا اور تمام راستہ کمر پر اٹھا کر لے گیا اور کمر پر ہی چڑھا کر حج کیا۔اور اسی طرح واپس آیا جب وہ سہارنپور کی سرحد پر پہنچا تو اپنی والدہ کو کرے او تار کر زمین میں پھینک دیا اور کہا کہ میں تجھے حج کرانے کیا لے گیا ایک سخت مصیبت میں پھنس گیا تو جہاں چاہے چلی جائیں تو اب تجھے نہیں لے جاتا۔اس ضعیفہ نے جان لیا کہ یہ اس زمین کی تاثیر ہے ورنہ میرا بیٹا تو نیک ہے اس بڑھیا نے بہت منت کی اور کہا بیٹا میں تیری والدہ ہوں تو میرے ساتھ ایسی بد سلوکی کرتا ہے مجھے گھر تو پہنچا دے اس نے والدہ کو بہت ہی برا کہا اور کہا کہ تو میری ماں ہی نہیں ہے اور نہ میں تیرا بیٹا ہوں میں تھک گیا میری کمر ٹوٹ گئی۔اب میں تجھ کو نہ لے جاؤں گا یہ کہہ کر چلدیا ؟ اس بڑھیا نے کہا کہ خیر جو ہوا وہ ہوا لیکن مجھے اس شہر کی سرحد سے باہر کر دے اور جو تو چاہے مجھ سے مزدوری لے لے خیر مزدوری پر وہ راضی ہوا اور بڑھیا کو اٹھا کر لے چلا جب سہارنپور کی سرحد سے باہر ہو گیا تو بڑھیا نے کہا کہ اب مجھے یہاں چھوڑ دے اور اپنی مزدوری لے لے میرا اللہ مالک ہے وہ شخص والدہ کی یہ بات سن کر رونے لگا اور کہنے لگا کہ تو تو میری ماں ہے میری جان تجھ پر سے قربان ہو جائے میں بھلا اس جگہ ایسی بے کسی میں اور ایسے جنگل میں تجھے جواب دے سکتا ہوں اور تجھ کو تنہا اور اکیلا چھوڑ سکتا ہوں۔کس کی مزدوری میری جان میرا مال سب تیرا ہے۔حضرت اقدس یہ حکایت سنکر ہے اور خاموش ہو رہے پھر میں نے حسب الارشاد ایک کارڈ مولوی صاحب کے پاس سہارنپور بھیج دیا۔اور وہی تعبیر بھی لکھدی چونکہ مولوی صاحب کو علم اور خواب میں ہونے کا بھی دعوئی تھا۔مولوی صاحب نے اس خط کے جواب میں کوئی معقول جواب تو نہیں دیا مگر ایسی ہی بکواس اور کردی؟