تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 261 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 261

تذكرة المهدي 261 کام میں اس نفس کا اس میں کوئی دخل نہ تھا خدا کی قدرت کے قربان خدا جانے آپ نے کس درد سے یا الهام روحی سے فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے چند سال کے بعد ریل جاری کرائی اور ریل والے اذان کہنے لگے اور اب خود رئیس نے عام اجازت دیدی کہ مسلمان کھلم کھلا اذان مسجدوں میں کہیں کوئی روک ٹوک نہیں اس پر ہندو اور برہمنوں نے غل مچایا کہ یہ پوتر اور دہرم دھرتی ہے اس میں کبھی اذان ہوئی ہی نہیں آپ کیوں اجازت دیتے ہیں مگر رئیس نے ان کا کہنا نہ مانا اور عام اجازت اذان کی دے دی سو دے دی بلکہ دفتر میں بھی لکھا گیا۔شیر مسوانی کا نشان اب میں مولوی محمد بشیر کا حال ک لکھتا ہوں اور یہ خدا تعالی کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور وہ یہ ہے کہ دوران بحث میں شیخ نصیر الدین دہلوی مرحوم مولوی محمد بشیر صاحب ہے ملنے گیا تو وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے پرچے کا جواب لکھ رہے تھے شیخ صاحب نے کہا کہ مولانا صاحب مرزا صاحب کا جواب سنبھل کر لکھتا وہ بھی فاضل عالم میں مولوی محمد بشیر نے کہا کہ در حقیقت مرزا صاحب کا جواب لکھنا بہت ہی مشکل ہے لوگوں نے مجھ کو پھنسا دیا مجھے تو جواب لکھنا مشکل ہو رہا ہے۔جب بحث مولوی صاحب اور حضرت اقدس علیہ السلام میں ختم ہو چکی تو بھوپال میں جاکر مولوی صاحب نے بڑا غل مچایا کہ میں فتح کر کے آیا ہوں اور خاص کر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب فاضل امرد ہی سے بیان کیا کیونکہ اس وقت تک حضرت فاضل امرد ہی بھوپال میں ہی تشریف رکھتے تھے اور وہیں ملازم تھے۔اللہ تعالٰی ذوالجلال والاکرام کی قدرت کا یہاں اب جلوہ دیکھنا چاہئے ابھی اس بحث پر چند روز گزرے تھے کہ ایک شخص شاید احمد علی نام تھا وہ بھوپال میں آیا کچھ لوگ اس کے معتقد ہوئے اور مولوی محمد بشیر بھی تقدیر الہی سے ایک روز اس کے پاس گئے اور جاتے ہی معتقد ہو گئے۔اور ذلت کے سامان مہیا ہونے لگے۔اور اس شخص کی بیعت اختیار کی اور گئے دنوں میں بیعت کے بعد ایک اشتہار اس