تذکرۃ المہدی — Page 179
تذکرة ابوری 179 نے عرض کیا کہ عرس میں تو نہیں جاتا ہے جب سے حضور کی خدمت میں آنا ہوا ہے عرس و قوالی تو ہم سے رخصت ہوئی آپ کی صحبت میسر ہو اور پھر قوالی کو جی چا ہے ایسا کہیں ہو سکتا ہے۔بعض وقت میں کوئی لطیفہ سنادیتا تو ہنستے اور فرماتے کہ صاحب زادہ صاحب اتنے لطیفے تم نے کہاں سے یاد کر لئے ایک شخص نماز نہیں پڑھا کرتا تھا وہ اتفاق سے ایک کام کیلئے مسجد مبارک میں گیا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے کہا آج تم کیسے مسجد میں آگئے نماز تو پڑھتے نہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے کچھ فرمایا میں نے کہا کہ حضرت اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک مراثی کا گھوڑا چھوٹ کر مسجد میں گھس گیا لوگوں نے اس کو دھمکایا اور کہا کہ مراثی تیرے گھوڑے نے مسجد کی بے ادبی کی مراثی نے جواب دیا کہ جناب گھوڑا حیوان تھا اس نے مسجد کی بے ادبی کی اور مسجد میں گھس گیا کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں نے کبھی مسجد کی بے ادبی کی ہو اور مجھے کبھی مسجد میں گھستے اور بے ادبی کرتے ہوئے دیکھا ہے حضرت اقدس علیہ السلام بننے لگے اور فرمایا اس شخص پر یہ مثال خوب صادق آئی ہے شک یہ آج بھولے سے مسجد میں آگیا ہے وہ شخص ایسا خفیف اور شرمندہ ہوا کہ اسی روز سے نماز پڑہنے لگا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ایک دفعہ فاتحہ خلف الامام فرماتے تھے کہ ایک شخص سیالکوٹ یا اس کے گردو نواح کا رہنے والا تھا اور ہر روز ہم اس کو امام کے پیچھے نماز میں الحمد پڑھنے کو کہتے تھے اور ہم اپنی دانست میں تمام دلیلیں اس بارہ میں دے چکے مگر اس نے نہیں مانا۔اور الحمد للہ امام کے پیچھے نہ پڑھی اور یوں نماز ہمارے ساتھ پڑھ لیتا ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں قادیان شریف آگیا ایک روز اسی قسم کی باتیں ہونے لگی صرف حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز میں الحمد شریف امام کے پیچھے پڑھنی چاہئے اور کوئی دلیل قرآن شریف یا حدیث