تذکرۃ المہدی — Page 166
تذكرة المهدي 166 محمد حسین کے مکان پر جانے لگے اور جانے کی یہ ضرورت ہوئی کہ ایام مباحثہ میں جو پرچہ مولوی محمد حسین کا نقل کے بعد منگوایا جاتا تو عباس علی کو بھیجا جاتا۔پس یہ جانا عباس علی کا غضب ہو گیا اور یہ پھنس گیا مولوی محمد حسین اور محمد حسن ان کو کھانا کھلانے لگے اور جب یہ جاتے تو سر وقد تعظیم کو کھڑے ہو جاتے اور کہتے میر عباس علی صاحب تم تو سید ہو آل رسول ہو تمہارا تو وہ مرتبہ ہے کہ لوگ تم سے بیعت ہوں اور تم افسوس مرزا کے مرید ہو گئے جو دین سے پھر گیا بر گشتہ ہو گیا امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔امام مہدی تو سیدوں میں سے ہو گا۔یہ مغل چغل کہاں سے بن گیا نعوذ باللہ منہا۔اور یہ دونوں مولوی عباس علی کے ہاتھ چومتے اور دو ایک روپیہ بھی نذرانہ کا دیتے اور کہتے کہ تمہاری شان اعلیٰ وارفع وہ ہے کہ تم درود میں شریک ہو اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وسلم تم اس رتبہ کے آدمی ہو کر افسوس کہاں اور کس مرتد کے مرید ہو گئے عباس علی تھے کہ پھول کے کیا ہو گئے اور ان کے اعتقاد میں تزلزل واقع ہو گیا سید تو تھے نہیں خوامخواہ سید بن گئے تھے اب تو ان دونوں دابتہ الارض مولویوں نے سید ہونے پر مہر لگادی۔ایک روز یہ مخالف ہو کر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں تو تمہارا مرید ہو کر شرمندہ ہوا۔اور تم نے ایسا دعویٰ کر لیا کہ جس سے ہم کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ میر صاحب میں نے جھوٹا دعوئی نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ میری بات پر گواہ ہے کہ خدا تعالٰی نے مجھ کو مسیح موعود اور مہدی موعود کہا اور بنایا اور میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اور قسم کھا کر کہ اس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور سچا ہوں اور راست گو ہوں کیا اتنے روز سے تم نے میرا کوئی جھوٹ سنایا مجھ کو جھوٹ بولتے دیکھایا میں نے کوئی افترا کیا یا کوئی منصوبہ باندھا میں مسیح موعود ہوں اور مہدی موعود ہوں۔اس تقریر کو سن کر خلیفتہ المسیح مولانا نور