تذکرۃ المہدی — Page 147
تذكرة المهاي 147 حصہ اول صاحب اور عباس علی صاحب لودھیانوی و غیر ہم بھی تھے میں نے مشورہ کہا تھا کہ اچھا ہو کہ ہمارا نام پہلے محمدی تھا۔اب احمدی رکھا جاوے اور محمد و احمد آنحضرت کے نام ہیں تو گویا ہم دونوں پہلوؤں سے محمدی احمدی ہو جاویں اور میں نے حضور سے بھی لودھیانہ میں عرض کیا تھا اور حضور نے فرمایا تھا کہ جو نام اللہ تعالی چاہے گا رکھ دے گا وقت آنے دو سو وہ وقت آگیا ہے سب فرقوں کے نام ہیں اور وہ نام حکمت اور سنت کے مطابق نہیں ہیں بہتر ہے کہ احمدی نام ہو جاوے فرمایا درست ہے احمدی فرقہ دنیا میں کوئی نہیں ہے اور احمد کی نام پر بہت بزرگوں کے نام ہیں مگر کسی فرقہ یا کسی سلسلہ کا نام احمدی نہیں ہے۔اس وقت سب خاموش رہے الخاموشی نیم رضا لیکن مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ بے شک میری بھی یہی رائے ہے حضرت اندس علیہ السلام اٹھ کر چل دیئے اور دوسرے روز ایک اشتہار لکھ کر لائے جس میں اپنی جماعت کا نام مسلمان فرقہ احمدی رکھا۔ایک دفعہ میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیک و علی محمد اپنی جماعت کے احباب کے لوگ شناخت نہیں ہوتے ان کی پہچان کے لئے ایسا نشان ہونا چاہیئے کہ ایک احمدی دوسرے احمدی کو ترت دیکھتے ہی پہچان جائے کسی نے عرض کیا کہ بازو پر لکھا ہوا ہو اور کسی نے عرض کیا کہ ٹوپی یا عمامہ پر لکھا ہوا موٹے حرفوں میں احمدی ہو۔کسی نے کہا کہ انگوٹھی خاص قسم کی ہاتھ میں ہو میں نے عرض کیا کچھ بھی ہو یہی باتیں ہو رہی که مہمان آگئے ان میں احمدی اور غیر احمدی بھی تھے بات بیچ کی بیچ میں گئی۔ره المدعاء ابھی میں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ سر سادہ سے خط آیا کہ جلد آؤ تمہاری بیوی کو ہیضہ ہو گیا ہے میں نے حضرت اقدس علیہ السلام سے اجازت چاہی کہ دو چار روز کے لئے انجازت دید یجئے اور یہ خط آیا