تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 862

تذکار مہدی — Page 55

تذکار مهدی ) 55 روایات سید نا محمود اُس کا چھوٹا لڑکا اپنے بڑے بھائی کی روٹیوں پر پلے گا۔اسے کہو کہ میری زندگی میں ہی کوئی کام کر لے۔میں کوشش کر رہا ہوں کہ اسے کوئی اچھی نوکری مل جائے میں مر گیا تو پھر سارے ذرائع بند ہو جائیں گے۔اُس سکھ نے بتایا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے والد صاحب آپ کا بہت خیال رکھتے ہیں انہیں یہ دیکھ کر کہ آپ کچھ کام نہیں کرتے بہت دُکھ ہوتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مر گیا تو غلام احمد کا کیا بنے گا آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے۔آپ کے والد صاحب اُس وقت کپورتھلہ میں کوشش کر رہے تھے اور کپورتھلہ کی ریاست نے آپ کو ریاست کا افسر تعلیم مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔وہ سکھ کہنے لگا کہ جب ہم نے یہ بات کہی کہ آپ اپنے والد صاحب کی بات کیوں نہیں مان لیتے آپ کچھ کام کر لیں تو آپ نے فرمایا۔والد صاحب تو یونہی غم کرتے رہتے ہیں۔انہیں میرے مستقبل کا کیوں فکر ہے۔میں نے تو جس کی نوکری کرنی تھی کر لی ہے۔ہم واپس آگئے اور مرزا غلام مرتضی صاحب سے آ کر ساری بات کہہ دی۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ اگر اس نے یہ بات کہی ہے تو ٹھیک کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا۔یہ آپ کی ابتدا تھی اور پھر ابھی تو انتہاء نہیں ہوئی لیکن جو عارضی انتہاء نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی وفات کے وقت ہزاروں ہزار آدمی آپ پر قربان ہونے والا موجود تھا۔آپ خود فرماتے ہیں: لُفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَ صِرتُ الْيَوْمَ مِطْعَامُ الْاهَالِي ایک وہ زمانہ تھا جب بچے ہوئے ٹکڑے مجھے دیئے جاتے تھے اور آج میرا یہ حال ہے کہ میں سینکڑوں خاندانوں کو پال رہا ہوں آپ کی ابتداء کتنی چھوٹی تھی مگر آپ کی انتہاء ایسی ہوئی کہ علاوہ ان لوگوں کے جو خدمت کرتے تھے لنگر میں روزانہ دو 2 اڑ ہائی سو آدمی کھانا کھاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ اپنے والد کی جائیداد میں اپنے بھائی کے برابر شریک تھے لیکن زمینداروں میں یہ عام دستور ہے کہ جو کام کرے وہ تو جائیداد میں شریک سمجھا جاتا ہے اور جو کام نہیں کرتا وہ جائیداد میں شریک نہیں سمجھا جاتا اور یہ دستور ابھی تک چلا آتا ہے۔لوگ عموماً کہہ دیتے ہیں کہ جو کام نہیں کرتا اُس کا جائیداد میں کیا حصہ ہوسکتا ہے۔آپ کے پاس جب کوئی