تذکار مہدی — Page 37
تذکار مهدی ) 37 در روایات سید نا محمود کہ گورنمنٹ کی نظروں میں بھی آپ کا دعویٰ کھٹکنے لگا کیونکہ آپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں مہدی ہوں اور مہدی کے متعلق مسلمانوں میں مشہور تھا کہ وہ کفار کا خون بہائے گا۔پس گورنمنٹ کو شبہ پڑا کہ ایسا نہ ہو اس کے ذریعہ دنیا میں کوئی فساد پیدا ہو۔چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے اُس وقت قادیان میں ہمیشہ ایک کانسٹیبل رہتا تھا اور جو شخص بھی آپ سے ملنے کے لئے آتا اُس کا نام نوٹ کر کے وہ گورنمنٹ کو اطلاع دے دیتا اور اگر کبھی کوئی سرکاری افسر احمدی ہو جاتا تو بالا افسر ا سے اشاروں ہی اشاروں میں سمجھاتے کہ گورنمنٹ کی نظر میں یہ فرقہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تمہیں اس میں شامل ہونے سے اجتناب اختیار کرنا چاہئے۔یہ مخالفت آخر بڑھتے بڑھتے اتنی شدید ہوئی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بچپن سے آپ کے دوست تھے اور ہمیشہ آپ سے تعلقات رکھتے تھے جنہوں نے براہین احمدیہ پر ایک زبردست ریویو بھی لکھا تھا وہ بھی آپ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنتہ میں یہ الفاظ لکھے کہ میں نے اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اس کو گراؤں گا۔اسی شہر لاہور کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مریض کی عیادت کیلئے سنہری مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور بند گاڑی میں سوار ہوئے۔اُن دنوں بند گاڑی کو شکرم کہا جاتا تھا۔جب آپ دہلی دروازہ سے روانہ ہوئے تو وہاں اُن دنوں ایک چبوترہ ہوا کرتا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس چبوترے پر کھڑے ہو کر ایک شخص شور مچار رہا تھا کہ دیکھو! یہ س مرتد ہے، کافر ہے، اس پر پتھر پھینکو گے تو ثواب حاصل ہوگا اور اُس کے اردگرد بہت بڑا ہجوم تھا۔جب گاڑی قریب سے گزری تو لوگ آپ پر لعنتیں ڈالنے لگے اور آوازیں کسنے لگے۔بعض نے آپ پر پتھر بھی پھینکے اور گالیاں دینی شروع کر دیں۔میرے لئے بچپن کے لحاظ سے ایک عجیب بات تھی۔میں نے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا اور میں نے دیکھا کہ اُس شخص کے پاس جو یہ شور مچا رہا تھا ایک اور شخص کھڑا تھا اور بڑا سائبہ پہنے ہوئے تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کوئی مولوی ہے مگر اُس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور اُس پر زرد زرد ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں میں نے دیکھا کہ وہ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا مرزائٹھ گیا، مرزا ٹھ گیا۔گویا وہ اپنے زخمی ہاتھ کو بھی دوسرے ہاتھ پر مار کر یہ سمجھتا تھا کہ وہ ایک ثواب کا کام کر رہا ہے۔پھر یہیں لاہور میں میلا رام کے منڈوہ میں 1904ء میں آپ کا ایک دفعہ لیکچر ہوا۔