تذکار مہدی — Page 741
تذکار مهدی ) 741 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے خدام کی بہت دلجوئی کرتے تھے رسول کریم ﷺ اپنی بیویوں کے حقوق بھی ادا کرتے تھے اور اتنی توجہ سے ادا کرتے تھے کہ ہر بیوی سمجھتی تھی کہ سب سے زیادہ میں ہی آپ کی توجہ کے نیچے ہوں۔پھر بیوی بھی ایک نہیں آپ کی نو بیویاں تھیں اور نو بیویوں کے ہوتے ہوئے ایک بیوی بھی یہ خیال نہیں کرتی تھی کہ میری طرف توجہ نہیں کی جاتی۔چنانچہ عصر کی نماز کے بعد رسول کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ساری بیویوں کے گھروں میں ایک چکر لگاتے اور ان سے ان کی ضرورتیں دریافت فرماتے۔پھر بعض دفعہ خانگی کاموں میں آپ ان کی مدد بھی فرما دیتے اس کام کے علاوہ جو میں نے بیان کیئے ہیں اور بھی بیسیوں کام ہیں جو رسول کریم مے سرانجام دیتے تھے۔پس آپ کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو فارغ ہو مگر آپ بھی اسی ملیر یا والے ملک کے رہنے والے تھے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہم دیکھتے ہیں جو آپ کے ظلن تھے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام کی یہ حالت ہوتی کہ ہم جب سوتے تو آپ کو کام کرتے دیکھتے اور جب آنکھ کھلتی تب بھی آپ کو کام کرتے دیکھتے اور باوجود اتنی محنت اور مشقت برداشت کرنے کے جو دوست آپ کی کتابوں کے پروف پڑھنے میں شامل ہوتے آپ ان کے کام کی اس قدر، قدر فرماتے کہ اگر عشاء کے وقت بھی کوئی آواز دیتا کہ حضور میں پروف لے آیا ہوں تو آپ چار پائی سے اُٹھ کر دروازہ تک جاتے ہوئے راستہ میں کئی دفعہ فرماتے جَزَاک اللہ۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی جزاک اللہ۔آپ کو بڑی تکلیف ہوئی۔حالانکہ وہ کام اس کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا جو آپ خود کرتے تھے۔غرض اس قدر کام کرنے کی عادت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں دیکھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں حیرت آتی۔بیماری کی وجہ سے بعض دفعہ آپ کو ٹہلنا پڑتا مگر اس حالت میں بھی آپ کام کرتے جاتے۔سیر کیلئے تشریف لے جاتے تو راستہ میں بھی مسائل کا ذکر کرتے اور سوالات کے جوابات دیتے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس ملیریا زدہ علاقہ کے تھے بلکہ حق یہ ہے کہ دنیا میں جتنے عظیم الشان کام کرنے والے انسان ہوئے ہیں وہ سب اسی ملیر یا والے ملک میں ہوئے ہیں کیونکہ اکثر معروف انبیاء ایشیاء میں ہوئے ہیں۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 250-249)