تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 862

تذکار مہدی — Page 29

تذکار مهدی ) خاندان بادشاہوں کی نسل سے روایات سید نا محمودی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا خاندان بادشاہوں کی نسل میں سے ہے۔چنانچہ ہمارے خاندان کا مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ صاحب حاجی برلاس کی اولاد میں سے تھے جو امیر تیمور کے چچا تھے اور جو لوگ تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ علاقہ کش کے اصل بادشاہ حاجی برلاس ہی تھے ، تیمور نے حملہ کر کے ان کے علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی وجہ سے ہمارے خاندان کے افراد جاہلیت کے زمانہ میں جبکہ احمدیت ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھی اور جبکہ قرآنی تعلیم ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوئی تھی، تیموری نسل کی لڑکیاں تو لے لیتے تھے مگر تیموری نسل کے مغلوں کو اپنی لڑکیاں نہیں دیتے تھے کیونکہ وہ اُن کو اپنے مقابلہ میں ادنی سمجھتے تھے۔لیکن بہر حال جہاں تک ظاہری وجاہت کا سوال ہے وہ قریباً قریباً تباہ اور برباد ہو چکی تھی۔مغلیہ سلطنت کے مٹنے کے بعد جب سکھوں کا دور شروع ہوا تو اُس وقت ہماری تمام ریاست سکھوں کے قبضہ میں چلی گئی۔اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے ہمارے پانچ گاؤں واگزار کر دیئے۔مگر جب انگریزی حکومت کا دور شروع ہوا تو اُس وقت پھر ہماری خاندانی ریاست کو صدمہ پہنچا اور ہماری وہ جائیداد بھی ضبط کر لی گئی جو کسی قدر باقی رہ گئی تھی۔یہ ہمارے خاندان کی حالت تھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے اپنا دعویٰ پیش فرمایا۔اگر ہماری یہ ریاست اپنی پہلی حالت میں قائم ہوتی تب بھی ایک چھوٹی سی ریاست ہوتی اور اتنی چھوٹی ریاست کو بھلا پوچھتا ہی کون ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے اتنی ریاست بھی پسند نہ کی تاکہ اُس کی صفات پر کوئی دھبہ نہ آئے اور لوگ یہ نہ کہیں کہ سابقہ عزت کی وجہ سے انہیں ترقی حاصل ہوئی ہے۔ہمارے دادا کو بڑا فکر رہتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو کسی ایسے کام پر لگا دیں جس سے وہ اپنا گزارہ آسانی کے ساتھ کر سکے۔مہاراجہ کپورتھلہ کے شاہی خاندان سے بھی ہمارے خاندان کے چونکہ پرانے تعلقات ہیں اس لئے انہوں نے کوشش کر کے بانی سلسلہ احمدیہ کے لئے وہاں ایک معزز عہدہ تلاش کر لیا۔چنانچہ ان کے لئے انسپکٹر جنرل آف ایجوکیشن کے عہدہ کی منظوری آ گئی۔قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں ہے وہاں ایک سکھ صاحب رہا کرتے تھے جو اکثر ہمارے دادا کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔انہوں نے خود سنایا کہ میں اور میرا بھائی اکثر بڑے مرزا صاحب سے ملنے کے لئے آ جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ہم دونوں ان سے ملنے کے لئے گئے تو وہ کہنے لگے کہ مرزا غلام احمد کو دنیا کی طرف کوئی توجہ نہیں میں حیران ہوں کہ میرے مرنے