تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 862

تذکار مہدی — Page 532

تذکار مهدی ) 532 روایات سید نا محمود وہی ہے جسے تقرب الہی کی خواہش ہو اور پھر وہ اس کے حصول کے لئے کوشش بھی کرے مگر یہ چیز تفصیلی ایمان کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔خطبات محمود جلد 13 صفحہ 544) جو کچھ ہو گا دعاؤں سے ہوگا اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ چاروں طرف ہمارے نشان ظاہر ہورہے ہیں مگر لوگ اندھے ہو کر چلتے ہیں۔تم ہی بتاؤ کہ کونسی سیکھنے والی بات باقی رہ گئی ہے اور کیوں تمہارا قدم عمل کی طرف نہیں اٹھتا، کس دن کا تمہیں انتظار ہے۔میں حیران ہوں کہ جولوگ اپنے وقتوں اور جائدادوں کی قربانیاں نہیں کر سکتے وہ اپنے نفوس کی قربانیاں کس طرح پیش کر دیں گے۔یہ بات یاد رکھو کہ قومی عزت بغیر قربانیوں کے قائم نہیں ہو سکتی وہ لوگ جنہیں اپنی قومی عزت کا خیال نہیں اور وہ لوگ جن میں قومی غیرت موجود نہیں وہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں۔وہ دنیا میں ایسے ہی پھرتے ہیں جیسے گائیں اور بھیڑیں پھرتی ہیں وہ لوگ اپنی قوم کے لئے کسی فائدے کا موجب نہیں۔ابتدائی ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رؤیا دیکھا کہ ایک لمبی نالی ہے جو کہ کئی کوس تک چلی جاتی ہے اور اس پر ہزارہا بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک بھیٹر پر ایک قصاب بیٹھا ہے وہ بھیڑ میں اس طرح لٹائی گئی ہیں کہ ان کا سر نالی کے کنارہ پر ہے کہ ذیج کرتے وقت ان کا خون نالی میں پڑے باقی حصہ ان کے وجود کا نالی سے باہر ہے اور ان تمام قصابوں کے ہاتھ میں ایک ایک چھری ہے جو کہ ہر ایک بھیٹر کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف ان کی نظر ہے گویا خدا تعالیٰ کی اجازت کے منتظر ہیں وہ لوگ جو دراصل فرشتے ہیں بھیڑوں کے ذبح کرنے کے لئے مستعد بیٹھے ہیں محض آسمانی اجازت کی انتظار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تب میں ان کے نزدیک گیا اور میں نے قرآن شریف کی یہ آیت پڑھی۔قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پرواہ کیا رکھتا ہے اگر تم اُس کی پرستش نہ کرو اور اُس کے حکموں کو نہ سنو۔میرا یہ کہنا ہی تھا کہ فرشتوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمیں اجازت دی گئی ہے گویا میرے منہ کے لفظ خدا کے لفظ تھے۔تب فرشتوں نے جو قصابوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے تھے فی الفور اپنی بھیڑوں پر چھریاں پھیر دیں اور چھریوں