تذکار مہدی — Page 13
تذکار مهدی ) 13 روایات سید نا محمودی میں نے دیکھا ہے کہ قدرتی طور پر ایسے مواقع پر از خود دعا کے لئے جوش پیدا ہوتا ہے۔کل ہی کلید قرآن سے میں ایک حوالہ نکالنے لگا تو مجھے خیال پیدا ہوا کہ یہ آیت دیر سے ملے گی مگر اس کلید قرآن سے مجھے فورا آیت مل گئی۔اس پر میں نے دیکھا کہ دو تین منٹ نہایت خلوص سے میں اس کے مرتب کیلئے دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ اس کے مدارج بلند کرے کہ اُس کی محنت کی وجہ سے آج مجھے یہ آیت اتنی جلدی مل گئی۔تو اب اگر لوگوں کے لئے صحابی بننے کا موقع نہیں تو کم از کم وہ تابعی ہی بن جائیں تا آئندہ جب لوگ ان کی روایات پڑھیں تو کہیں اللہ تعالیٰ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے ہمارے لئے ان باتوں کو محفوظ کر دیا۔(۴) اور جو اتنا کام بھی نہ کر سکتے ہوں وہ کم از کم یہ کریں کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کبھی بھی صحبت اُٹھائی ہو ان صحابہ کے پتوں سے دفتر کو اطلاع دے دیں۔اگر انہیں علم ہو کہ فلاں شخص صحابی ہے اور وہ ابھی فلاں جگہ زندہ موجود ہے ہمیں اطلاع دے دیں اور لکھ دیں کہ ہم تو سُست ہیں اور اُس کے پاس پہنچ کر حالات جمع کرنے سے قاصر ، آپ اگر چاہیں تو اُن سے حالات پوچھ لیویں اس پر ہم خود اُن سے حالات دریافت کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ ہی مرکزی دفتر کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جو حالات اور واقعات اس کے پاس جمع ہوں وہ ضائع نہ ہوں ان کی حفاظت کا خاص انتظام ہو۔پچھلے سالوں میں یہاں ذکر حبیب پر جلسے ہوتے رہے ہیں مگر ان جلسوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو حالات بیان کیئے گئے ہیں غالبا وہ بھی محفوظ نہیں۔ہمارا ہر سال تین لاکھ کا بجٹ تیار ہوتا ہے مگر تالیف و تصنیف کا محکمہ اس میں پندرہ روپیہ کا کلرک نہیں رکھ سکتا جس کا کام محض یہ ہو کہ وہ ان واقعات کو محفوظ رکھے اور جیسے پُرانے زمانہ میں کتابوں کی نقلیں کی جایا کرتی تھیں اسی طرح تمام واقعات کی پانچ سات نقلیں کر کے ہر نسخہ ایک ایک دفتر میں محفوظ کر دیا جائے اور پھر ایسے واقعات کو ساتھ ساتھ اخبارات میں بھی شائع کرانے کی کوشش کی جائے تا کہ جلد سے جلد یہ ریکارڈ میں آ جائیں اور ایک ایک واقعہ کی ہزاروں کا پیاں ہو جائیں کوئی ایک اخبار یا رسالہ اس کے لئے مخصوص نہ کیا جائے۔مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 552 تا 558)