تذکار مہدی — Page 409
تذکار مهدی ) 409 روایات سید نا محمود دونوں خاندان احمدیت سے پرانا تعلق رکھتے ہیں۔لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پرانا اور نیا سب نسبتی چیزیں ہیں۔جب تک پیوند قائم رہے پرانا زیادہ برکت کا مستحق ہوتا ہے اور دنیا اس سے کم لیکن جب آئندہ نسل اپنے تعلقات کو منقطع کر لے۔تو خدا نہ پرانے کا لحاظ کرتا ہے نہ نئے کا خدا تعالیٰ کا سلوک ہمیشہ تعلق کی بناء پر ہوتا ہے۔( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 652 تا654) پسر موعود کی شناخت کا نشان کل ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک پیشگوئی ملی ہے۔جو پیر سراج الحق صاحب نعمانی کی کتاب ”تذکرۃ المہدی میں درج ہے۔یہ کتاب 1921 ء میں لکھی گئی تھی۔اس میں پیر سراج الحق صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارے سلسلہ میں بھی سخت تفرقہ پڑے گا کہ فتنہ انداز اور ہوا و ہوس کے بندے جدا ہو جائیں گے۔پھر خدا تعالیٰ اس تفرقہ کو مٹا دے گا۔باقی جو کٹنے کے لائق اور راستی سے تعلق نہیں رکھتے۔اور فتنہ پرواز ہیں۔وہ کٹ جائیں گے اور دنیا میں ایک حشر برپا ہو گا۔وہ اول الحشر ہوگا اور تمام بادشاہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے اور ایسا کشت وخون ہو گا کہ زمین خون سے بھر جائے گی۔اور ہر ایک بادشاہ کی رعایا بھی آپس میں خوفناک لڑائی کرے گی۔ایک عالم گیر تباہی آوے گی اور ان تمام واقعات کا مرکز ملک شام ہو گا۔صاحبزادہ صاحب اس وقت میرا لڑکا موعود ہو گا۔خدا نے اس کے ساتھ ان حالات کو مقدر کر رکھا ہے۔ان واقعات کے بعد ہمارے سلسلہ کو ترقی ہوگی اور سلاطین ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔تم اس موعود کو اور پہچان لینا۔یہ ایک بہت بڑا نشان پسر موعود کی شناخت کا ہے۔“ (تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 3) اب دیکھو منافقین کا موجودہ فتنہ 1956ء میں پیدا ہوا ہے اور یہ کتاب 1921ء کی چھپی ہوئی موجود ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا۔وہ جھوٹ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات نہیں کہی۔لیکن یہ جھوٹ کتنا سچا ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کی طرح پورا ہو گیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت جھوٹی نہیں بلکہ ایک سچی پیشگوئی تھی۔جو لفظاً لفظاً پوری ہو گئی ہے۔اگر اس کے پورا ہو جانے کے بعد بھی کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو اُس کی مثال ویسی ہی ہو گی جیسے مشہور ہے کہ کوئی بُزدل آدمی ایک جنگ میں زخمی ہو گیا۔اُس کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔لیکن بُزدلی کی وجہ سے وہ مانا نہیں چاہتا تھا کہ وہ واقع میں زخمی ہے۔وہ بھاگتا