تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 862

تذکار مہدی — Page 321

تذکار مهدی ) 321 روایات سید نا محمود کو دیکھتے ہوئے کہ اب قادیان کا سفر بالکل آسان ہے یہ بات میری سمجھ سے بالکل بالا ہے کہ کیوں ہماری جماعت کے نوجوانوں میں اس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے۔پہلے شام کی گاڑی سے ہمارے طالب علم بٹالہ میں اُترتے اور گاڑی سے اُتر کر راتوں رات پیدل چل کر قادیان پہنچ جاتے یا آٹھ نو بجے صبح اُترتے تو بارہ ایک بجے دوپہر کو قادیان پہنچ جاتے تھے۔طالب علم ہونے کی وجہ سے بالعموم ان کے پاس اتنے کرائے نہیں ہوتے تھے کہ یکہ یا تانگہ لے سکیں۔ایسے بھی ہوتے تھے جو یوں میں آ جایا کرتے تھے۔مگر ایسے طالب علم بھی تھے جو پیدل آتے اور پیدل جاتے تھے مگر اب ریل کی وجہ سے بہت کچھ سہولت ہو گئی ہے۔ریل وقت بچا لیتی ہے، ریل کوفت سے بچا لیتی ہے، اور ریل کا جو کرایہ آجکل بٹالہ سے قادیان کا ہے وہ اس کے کرایہ کے نصف کے قریب ہے جو اُن دنوں یکہ والے وصول کیا کرتے تھے۔اُس زمانہ میں ڈیڑھ دو روپیہ میں یکہ آیا کرتا تھا اور ایک یکہ میں تین سواریاں ہوا کرتی تھیں گویا کم سے کم آٹھ آنے ایک آدمی کا صرف ایک طرف کا کرایہ ہوتا تھا مگر آجکل چھ سات آنے میں بٹالہ کا آنا جانا ہو جاتا ہے تو جو دقتیں مالی لحاظ سے پیش آسکتی تھیں یا وقت کے لحاظ سے پیش آ سکتی تھیں وہ کم ہو گئی ہیں اور جوضرور تیں قادیان آنے کے متعلق تھیں وہ ویسی ہی قائم ہیں۔(انوار العلوم جلد 16 صفحہ 113،112) قادیان کے بازار جماعت کو خدا تعالیٰ دنیوی ترقیات بھی دے گا۔قادیان بہت پھیلے گی اور ترقی کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا ہے کہ قادیان کے بازاروں میں بڑی بڑی تو ندوں والے جوہری بیٹھے ہیں۔ایسا وقت بھی آئے گا مگر کسی احمدی سے جو اس وقت قادیان میں چپڑاسی کا ہی کام کرتا ہوا سے کوئی پوچھے کہ تمہیں آنے والی حالت پسند ہے یا موجودہ؟ تو وہ یہی کہے گا کہ اس وقت میرا چپڑاسی ہونا اُس زمانہ کے امیر و کبیر ہونے سے اچھا ہے۔تو خدا تعالیٰ کی جماعتوں میں اس قسم کی چیزیں بھی آتی ہیں اور جماعت احمدیہ میں بھی آجائیں گی مگر جو مزا آج گالیاں کھانے اور ماریں سہنے میں ہے وہ اُس وقت نہیں آئے گا۔کس قدر ہمیں اس وقت حسرت ہوتی ہے جب ہم حدیثیں پڑھتے ہیں کہ کاش! ہم بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہوتے اور آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے خواہ کتنی دور سے زیارت نصیب ہوتی۔بعض اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 50-51)