تذکار مہدی — Page 290
تذکار مهدی ) آوارہ کتوں کو مارنے کی ہدایت 290 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بڑی کثرت سے گتے ہوتے تھے اور جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ یہ حکم دیا کرتے تھے کہ آوارہ گتے مار دیئے جائیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہر چھٹے ماہ یہ حکم دیا کرتے تھے کہ آوارہ گتے مار دیئے جائیں مگر اب ہمارے گھروں میں بہت کم گتا دکھائی دیتا ہے۔میں نے بچپن میں کتوں کو کئی دفعہ آپس میں لڑتے دیکھا ہے، اسی طرح بلیوں کو دیکھا ہے، جب یہ آپس میں لڑتے ہیں تو اپنی دموں کو عجیب طرح حرکت دیتے اور انہیں اوپر اٹھا لیتے ہیں۔آنکھیں ان کی باہر نکلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تھوڑی دیر بھوں بھوں یا غرغر کرتے رہتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک گتا دُم دبا کر ایک طرف کو چل دیتا ہے یا یتی دوسری کے مقابلہ سے ہٹ کر ایک طرف کو چل دیتی ہے۔جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اُس نے اپنی ہار تسلیم کر لی۔اب نہ اُن میں لڑائی ہوتی ہے نہ فساد ہوتا ہے۔نہ ایک دوسرے کو زخمی کرتے ہیں محض آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تھوڑی دیر بھوں بھوں کرنے کے بعد ایک ان میں سے مقابلہ سے ہٹ جاتا ہے۔اسی طرح بلیاں کرتی ہیں۔بلیاں حقیقی طور پر بہت کم لڑتی ہیں۔اکثر وہ پیار سے ایک دوسری سے لڑتی ہیں۔دشمنی کی لڑائی بلیوں میں بہت کم ہوتی ہے اور گتوں میں بھی بہت کم ہوتی ہے۔جب وہ پیار سے لڑتے ہیں تو بظاہر ایک دوسرے کو گراتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے کو پیار بھی کرتے جاتے ہیں اور چاہتے جاتے ہیں مگر جب حقیقی طور پر کوئی لڑنے کا ارادہ کرے تو بہت کم لڑائی ہوتی ہے۔ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک زبر دست گتا اچانک کمزور کتے پر پیچھے سے حملہ کر کے اُسے زخمی کر دے مگر مقابل میں ٹک کر ان میں لڑائی بہت شاذ ہوتی ہے اور وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں تاڑ جاتے ہیں کہ کون کمزور ہے اور کون طاقتور۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کمزور دُم دبا کر ایک طرف کو چل دیتا ہے۔یہی حالت انسان کی ہے مگر انسان کی عقلِ طبعی بہت کمزور ہو چکی ہے۔اس کا علم ظاہری زیادہ ہے مگر جس طبعی بہت کمزور ہو گئی ہے۔اس لئے جن چیزوں کو جانور پہچان لیتا ہے انسان ان کو نہیں پہچان سکتا۔جانوروں میں چونکہ علم اندرونی ہے اس لئے ان کی اندرونی جس بہت تیز ہوتی ہے بیماریاں اور وبائیں آنے والی ہوتی ہیں تو گتے کئی کئی دن پہلے رونے لگ جاتے ہیں نہ معلوم