تذکار مہدی — Page 278
تذکار مهدی ) 62786 روایات سید نامحمود ہاں دنیوی علم سمجھ کر کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔میں نے کہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں دُور بین نگاہ دی ہوئی تھی اس کا ہمارے پاس ایک حیرت انگیز ثبوت ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی براہین احمدیہ ہی لکھی تھی کہ وہ سمجھ گئے یہ شخص مسیح موعود بننے والا ہے حالانکہ اُس وقت ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی یہ انکشاف نہیں ہوا تھا کہ آپ کوئی دعوی کرنے والے ہیں۔چنانچہ انہی دنوں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط میں یہ شعر لکھا۔ہم مریضوں کی تمہی پہ نگاہ ہے تم مسیحا بنو خدا کے لئے یہ امر بتاتا ہے کہ وہ صاحب کشف تھے اور خدا تعالیٰ نے انہیں بتادیا تھا کہ یہ شخص مسیح موعود بننے والا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے فوت ہو گئے مگر وہ اپنی اولا د کو وصیت کر گئے کہ حضرت مرزا صاحب دعوی کریں گے انہیں مانے میں دیر نہ کرنا۔اس تعلق کی بناء پر حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی شادی ان کے ہاں ہوئی۔غرض علم توجہ ایک دُنیوی چیز ہے زیادہ سے زیادہ لوگ یہ کر لیتے ہیں کہ توجہ سے کسی کے دل میں وہم پیدا کر لیتے ہیں، کسی کو بیہوش کر دیا، بعض ماضی کے اخبارات دریافت کر لئے ، بعض حال کے واقعات معلوم کر لئے معمول کو بے حس اور بے طاقت کر دیا۔غرض اس قسم کے افعال علم توجہ سے ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں مگر دعا کے مقابل اس کی کیا حقیت ہے۔علم توجہ کے اثرات انفرادی ہوتے ہیں مگر دعا کے اثرات انفرادی ہی نہیں بلکہ مجموعی بھی ہوتے ہیں۔حضرت پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی خطبات محمود جلد 17 صفحہ 101 تا 103 ) | بچوں کی پرورش کے معاملہ میں جاہل سے جاہل عورت ، عقلمند سے عقلمند مرد سے زیادہ معاملہ فہم اور عقلمند ثابت ہوگی۔یہ طاقت عورتوں میں اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ مردوں میں مقابلہ اس کا سینکڑواں حصہ بھی نہیں۔مردوں میں بھی بعض ایسے ہوتے ہیں جو بچے پالنا جانتے ہیں۔میں نے اپنے تجربہ میں کئی ایسے آدمی دیکھتے ہیں جنہوں نے بچوں کی پرورش اچھی طرح کی۔مثلاً ایک مرد کی بیوی مر گئی اس کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی اس نے دوسری شادی نہیں کی اور خود اپنے بچوں کی پرورش کی اسی طرح ہمارے ایک دوست قادیان کے ہیں پیر افتخار احمد صاحب