تذکار مہدی — Page 249
تذکار مهدی ) 249 روایات سید نا محمود رہی ہے۔والد صاحب کے زمانہ میں ان کو صرف آٹھ آنہ ماہوار اور روٹی ملتی تھی اور وہ سارا سارا دن کام کرتے تھے۔مگر اب دو روپے اور روٹی ملتی ہے مگر وہ کام نہیں کرتے۔لیکن احمدیت کی وجہ سے آج یہ حالت پہنچ گئی ہے کہ اب بارہ چودہ روپیہ اور روٹی دینی پڑتی ہے۔یہ کتنا بڑا فرق ہے یہی حال دھوبیوں کا ہے۔ان کو سوائے اس کے کہ فصل کے موقعہ پر مالکوں کی طرف سے غلہ وغیرہ دے دیا جاتا تھا۔یا سوائے اس کے کہ کسی کی کوئی خدمت وغیرہ کر کے کچھ حاصل کر لیں کوئی آمد نہ تھی۔مگر اب وہ یہاں 25-30 بلکہ چالیس چالیس روپے ماہوار کماتے ہیں۔یہی حال تر کھانوں اور لوہاروں وغیرہ کا ہے۔پہلے ان کی یہاں مزدوری چھ سات آنہ روزانہ تھی۔مگر اب ڈیڑھ دو روپیہ ہے تو خواہ قادیان کے رہنے والے ہوں۔یا باہر سے آنے والے تاجر ہوں یا مزدور یا کوئی اور کام کرنے والے سب پر احمدیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوئے ہیں۔پھر جو لوگ پنشن لے کر یہاں آ جاتے ہیں۔ان کو بھی دنیوی لحاظ سے اور دینی لحاظ سے بھی کافی فائدے پہنچتے ہیں۔یہاں تعلیم کا جیسا انتظام ہے باہر ویسا ان کے لئے نہیں ہوسکتا۔پھر یہاں ان کے بیوی بچے بے فکری سے رہتے ہیں۔کئی لوگ بیوی بچوں کو یہاں چھوڑ کر خود باہر چلے جاتے ہیں بلکہ ہندوستان سے باہر چلے جاتے ہیں اور ان کے بعد ان کے بیوی بچے بڑے آرام اور چین سے زندگی بسر کرتے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ سو میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف بھی پہنچتی ہوگی۔مگر عام طور پر بہت آرام پہنچتا ہے۔لاہور میں ایک سکھ پروفیسر نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ جب ملک میں عام خطرہ ہو تو احمد یوں میں جائے پناہ مل سکتی ہے۔( خطبات محمود جلد 21 صفحہ 181 تا182) اوہ تے بہن رل مل گئے نے اللہ تعالیٰ ایک نہایت زبردست دلیل شرک کے رد میں اور مشرکوں کی تباہی کی تائید میں پیش کرتا ہے فرماتا ہے کہ خدا کے سوا جو معبود ہیں انہوں نے تو کبھی ایک مکھی بھی پیدا نہیں کی بلکہ اگر سب کے سب معبود جمع ہو جائیں تب بھی وہ ایک مکھی تک پیدا نہیں کر سکتے اور اگر مکھی ان کے کھانے میں سے کچھ اٹھا کر لے جائے تو وہ واپس بھی نہیں لے سکتے۔پس عبادت کرنے والا اور معبود دونوں ہی کتنے کمزور ہیں۔اس آیت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کا یہ کہنا نہایت تعجب انگیز ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ