تذکار مہدی — Page 226
تذکار مهدی ) 226 روایات سید نا محمود ضرورت ہے۔مگر دوسرے دوستوں نے کہا کہ نہیں اب انہیں سزا ضرور ہی ملنی چاہئے۔جب مجرموں نے سمجھ لیا کہ اب سزا ضرور ملے گی تو انہوں نے حضرت صاحب کے پاس آ کر معافی چاہی تو حضرت صاحب نے کام کرنے والوں کو بلا کر فرمایا کہ ان کو معاف کر دو۔انہوں نے کہا ہم تو اب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم کسی قسم کی سفارش نہیں کریں گے تو حضرت اقدس فرمانے لگے کہ وہ جو معافی کے لئے کہتے ہیں تو ہم کیا کریں۔مجسٹریٹ نے کہا دیکھا وہی بات ہوئی جو میں پہلے کہتا تھا مرزا صاحب نے معاف ہی کر دیا۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا تو ہم کہتے ہیں کہ بے شک آج دنیا اس کو محسوس نہیں کرتی۔لیکن ایک وقت آئے گا کہ جب تاریخوں میں واقعات پڑھے جائیں گے تو یہی واقعات لاکھوں آدمیوں کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔آج پچاس آدمیوں پر اس واقعہ کا اثر ہے تو کل ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں ہزاروں آدمیوں پر یہ واقعات اثر کریں گے۔مخالفین کی ایذاء رسانی (خطبات محمود جلد 10 صفحہ 277) | میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا کرتے ہیں۔میں نے اپنے کانوں سے مخالفین کی گالیاں سنیں اور اپنے سامنے بیٹھا کر سنیں مگر باوجوداس کے تہذیب اور متانت کے ساتھ ایسے لوگوں سے باتیں کرتا رہا۔میں نے پتھر بھی کھائے اس وقت بھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر امرتسر میں پتھر پھینکے گئے اس وقت میں بچہ تھا مگر اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے مجھے حصہ دے دیا۔لوگ بڑی کثرت سے اس گاڑی پر پتھر مار رہے تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے۔میری اس وقت چودہ پندرہ سال کی عمر ہوگی گاڑی کی ایک کھڑ کی کھلی تھی میں نے وہ کھڑ کی بند کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ اس زور سے پتھر مار رہے تھے کہ کھڑ کی میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پتھر میرے ہاتھ پر لگے۔پھر جب سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پتھر پھینکے گئے ، اس وقت بھی مجھے لگے۔پھر جب تھوڑا عرصہ ہوا میں سیالکوٹ گیا تو باوجود اس کے کہ جماعت کے لوگوں نے میرے ارد گرد حلقہ بنالیا تھا، مجھے چار پتھر لگے۔حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 508)