تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 862

تذکار مہدی — Page 116

تذکار مهدی ) 116 روایات سید نا محمودی رائے ہوتی ہے۔تو انہوں نے یہ دھوکا دیا پھر تفصیلی قواعد مجھے ہی دیئے گئے تھے اور میں ہی حضرت صاحب کے پاس لے گیا تھا۔اس وقت آپ کوئی ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا کیا ہے؟ میں نے کہا انجمن کے قواعد ہیں۔فرمایا لے جاؤ ابھی فرصت نہیں۔گویا آپ نے ان کو کوئی وقعت نہ دی۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1922 ، صفحہ 37-38۔سوانح فضل عمر جلد اول صفحہ 18-189) عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے زمیندار ہیں جنہوں نے بھائیوں کو چھوڑ دیا، ماں باپ کو چھوڑ دیا، بیویوں کو چھوڑ دیا اور بیویوں نے خاوندوں کو چھوڑ دیا، قیمتی سے قیمتی چیزوں کو ترک کر دیا مگر حقہ کی نال کو نہیں چھوڑ سکے۔جب وقت آتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں پیٹ پھولنے لگتا ہے۔اسی طرح چائے کی عادت گو اس سے کم ہے مگر جسے ہو وہ وقت آنے پر پاگلوں کی طرح پھرتا ہے۔پٹھان کتنی غیرت والے ہوتے ہیں اور کشمیریوں کو ادنی سمجھتے ہیں مگر مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم ایک پہاڑ پر جارہے تھے میرے ساتھ ایک پٹھان دوست تھے جنہیں نسوار کھانے کی عادت تھی مگر وہ اپنی ڈبیا گھر بھول آئے تھے۔راستہ میں ایک مزدور کشمیری آرہا تھا پٹھان دوست نے اُس کشمیری سے جس کی طرف دوسرے وقت میں وہ منہ کرنا بھی پسند نہ کرتے اور جو کندھے پر لکڑیاں اٹھائے ہوئے آرہا تھا نہایت لجاجت سے کہا کہ اے بھائی کشمیری ! اے بھائی کشمیری جی! اے بھائی جی! آپ کے پاس نسوار ہے؟ مجھے یہ سن کر بے اختیار ہنسی آگئی کہ جو شخص تکبر سے گردن اونچی رکھتا تھا اب نسوار کی وجہ سے کس قدر لجاجت پر اتر آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کچھ دوست یہاں آیا کرتے تھے جن کو حقہ پینے کی عادت تھی۔یہاں اور تو کسی جگہ حقہ ہوتا نہیں تھا ہمارے ایک تایا تھے جو سخت دہر یہ تھے اور دین سے بالکل تعلق نہیں رکھتے تھے ان کے پاس کھہ کے لئے چلے جاتے اور مجبوراً ان کی باتیں سنتے۔ہمارے وہ تایا ایسے شخص تھے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نماز بھی پڑھی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں بچپن سے ہی سلیم الطبع ہوں میں بچپن میں بھی جب کسی کو سر نیچے کرتے دیکھتا تو ہنسا کرتا تھا مراد نماز سے تھی۔وہ بھنگ بھی پیا کرتے تھے تو ہمارے بعض دوست حلقہ کے لئے اُن کی مجلس میں چلے جاتے تھے اور ایسی ایسی باتیں جو وہ سلسلہ اور اسلام کے خلاف کرتے مجبوراً سنتے تھے۔ایک دوست نے سنایا کہ ایک دفعہ ایک احمدی وہاں