تذکار مہدی — Page 53
تذکار مهدی ) 53 روایات سید نا محمود (روز) کسی کی یاد میں بسر ہوں کیونکہ دنیا کی کوئی پختہ بنیاد نہیں۔اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اور حیات مستعار پر کوئی اعتماد نہیں۔والكيسن من خاف على نفسه من افة غيرہ جس شخص کو اپنا فکر ہوا سے کسی آفت کا کیا غم۔احکام سیرت مسیح موعود نمبر۔جلد 47 نمبر 19 تا 22 مورخہ 21 تا 28 مئی و 7 تا 14 جون 1943 ، صفحہ 7-6) تو بہ جان کندنی تک قبول ہوتی ہے جب غرغرہ موت شروع ہو جاتا ہے تو انسان کے حواس پر اثر پڑنا شروع ہو جاتا ہے گو وہ بھی کبھی زیادہ لمبا اور کبھی بہت قلیل عرصہ کے لئے ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تو بہ جان کندنی تک قبول ہوتی ہے۔جب جان کندنی شروع ہو جائے تو پھر تو بہ قبول نہیں ہوتی کیونکہ جب غرغرہ موت شروع ہو جاتا ہے تو حواس جاتے رہتے ہیں۔یہ غرغرہ بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک ابتدائی اور ایک اُس کے بعد کا جو اصلی اور حقیقی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب بڑے طاقتور تھے۔غرغرہ موت شروع ہوا تو فرمانے لگے۔غلام احمد یہ غرغرہ ہے اور پھر چند منٹ کے بعد فوت ہو گئے۔تو اِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ (البقره:134) سے مراد جیسا کہ بعض نے سمجھا ہے یہ نہیں کہ جب جان کندنی شروع ہو گئی تھی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اُن کی موت کا وقت ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 203) قریب آ گیا تھا۔والد صاحب کی وفات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ اپنے والد صاحب کا ایک واقعہ لطف لے کر بیان کیا کرتے تھے کہ آپ جب فوت ہوئے اس وقت اسی سال کے قریب عمر تھی مگر وفات کے ایک گھنٹہ پہلے آپ پاخانہ کے لیئے اٹھے۔آپ کو سخت پیچش تھی اور پاخانہ کے لئے جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک ملازم نے آپ کو سہارا دیا مگر آپ نے اس کا ہاتھ جھٹک کر پرے کر دیا اور کہا کہ مجھے سہارا کیوں دیتے ہو؟ اس کے ایک گھنٹہ کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔( خطبات محمود جلد 17 صفحہ 303)