تذکار مہدی — Page 52
تذکار مهدی ) 52 روایات سید نا محمود که دنیا را اسا سے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے والکیسن من خاف علی نفسه من افة غيره ( دعوۃ الامیر۔انوارالعلوم جلد 7 صفحہ 576) ترجمہ اردو۔حضرت والد مخدوم من سلامت غلامانہ مراسم اور فدویانہ آداب کی بجا آوری کے بعد آپ کی خدمت میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ان دنوں یہ امر مشاہدہ میں آ رہا ہے۔اور ہر روز یہ بات دیکھی جا رہی ہے کہ تمام ممالک اور قطعات زمین میں ہر سال اس قسم کی وبا پھوٹ پڑتی ہے جو کہ دوستوں کو دوستوں سے اور رشتہ داروں کو رشتہ داروں سے جدا کر دیتی ہے اور ان میں دائمی مفارقت ڈال دیتی ہے اور کوئی سال بھی اس بات سے خالی نہیں گزرتا کہ یہ عظیم الشان آگ اور الم ناک حادثہ ظاہر نہ ہوتا ہو۔یا اس کی تباہی کی وجہ سے شور قیامت برپا نہ ہوتا ہو۔ان حالات کو دیکھ کر میرا دل دنیا سے سرد ہو گیا ہے اور چہرہ اس غم سے زرد ہے اور اکثر حضرت شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے یہ دو مصرعہ زبان پر جاری رہتے ہیں۔اور حسرت و افسوس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہ پڑتے ہیں۔مکن تکیه مباش ایمن از بازی نا پائیدار روزگار نا پائیدار عمر پر بھروسہ نہ کر اور زمانہ کی کھیل سے بے خوف نہ ہو۔نیز فرخ قادیانی کے دیوان سے یہ دو مصرعہ بھی میرے زخموں پر نمک چھڑکتے رہتے ہیں۔بدنیائے دوں دل مبند اے که وقت اجل جوال رسد ناگہاں اپنے دل کو دنیائے دوں میں نہ لگا۔کیونکہ موت کا وقت نا گہاں پہنچ جاتا ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ باقی عمر گوشتہ تنہائی اور کنج عزلت میں بسر کروں اور عوام کی صحبت اور مجالس سے علیحدگی اختیار کروں اور اللہ تعالیٰ سبحانہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤں تا کہ تلافی مافات کی صورت پیدا ہو جائے۔عمر بگذشت و نماند ست جز ایام چند که دریاد کسے صبح کنم شامے چند عمر کا اکثر حصہ گزر گیا ہے۔اور اب چند دن باقی رہ گئے ہیں۔بہتر ہے کہ یہ چند