تذکار مہدی — Page 820
820 روایات سید نا محمودی تذکار مهدی ) اس کے کہ بعد میں آکر کوئی بادشاہ اسے بنائے یہ زیادہ مناسب ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور موعودہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کیلئے سند نہیں ہو سکتا۔چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا بناتے ہیں اور جاپانی کہیں گے اپنا اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔آج یہاں عرب، سماٹرنی، انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں ایک انگریز نو مسلمہ آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ایڈریس بھی پیش کیا ہے۔جاوا ، سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں، افریقہ کے بھی ہیں انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔افریقہ کا نمائندہ بھی ہے امریکہ والوں کی طرف سے بھی تار آ گیا ہے اور اس لئے جو جھنڈا آج نصب ہوگا اس میں سب تو میں شامل سمجھی جائیں گی اور وہ جماعت کی شوکت کا نشان ہو گا اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا بھی بن جاتا تا بعد میں اس کے متعلق کوئی اختلافات پیدا نہ ہوں۔پھر یہ رسول کریم ﷺ کی سنت بھی ہے۔حضرت مسیح موعود کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح دمشق کے منارہ شرقی پر اُترے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے وہ مینارہ بنوایا تا رسول کریم ﷺ کی بات ظاہری رنگ میں بھی پوری ہو اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ جھنڈا بنانے کی توفیق دی کہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ظاہری رنگ میں بھی پورا ہوتا ہے اور اِس وجہ سے کہ ہم لوگوں کو باطن کا بھی خیال رہے اور یہ محض ظاہری رسم ہی نہ رہے میں نے ایک اقرار نامہ تجویز کیا ہے پہلے میں اسے پڑھ کر سُنا دیتا ہوں اس کے بعد میں کہتا جاؤں گا اور دوست اسے دُہراتے جائیں۔اقرار نامہ یہ ہے:۔میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اور احمدیت کے قیام ، اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کیلئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اُونچا اُڑتا رہے۔اَللَّهُمَّ امِينَ۔اَللَّهُمَّ أَمِينَ۔اللَّهُمَّ امِينَ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔» تقریر بجواب ایڈریس ہائے جماعتہائے احمدیہ، انوار العلوم جلد 15 صفحہ 438 تا 440)