تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 786 of 862

تذکار مہدی — Page 786

تذکار مهدی ) 786 نامحمودی روایات سیّد نا محمود لیکن اگر دوسروں سے وہ کوئی ضروری بات کریں تو یہ جائز ہے۔مثلاً اگر وہ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیں۔تو بے شک کریں یا فرض کرو کوئی مقدمہ ہو گیا ہے اور عورت کسی وکیل سے بات کرنا چاہتی ہے۔تو بے شک کرے۔اسی طرح اگر کسی جلسہ میں کوئی ایسی تقریر کرنی پڑے جو مرد نہیں کر سکتا۔تو عورت تقریر بھی کر سکتی ہے۔حضرت عائشہ کے متعلق تو یہاں تک ثابت ہے کہ آپ مردوں کو رسول کریم ﷺ کی حدیثیں سنایا کرتی تھیں بلکہ خود لڑائی کی بھی ایک دفعہ آپ نے کمان کی۔جنگ جمل میں آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر سارے لشکر کی کمان کی تھی۔پس یہ تمام چیزیں جائز ہیں جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے۔ہاں اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے۔لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا یا مکسڈ پارٹیوں میں جانا۔جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ ناجائز ہے اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے۔غرض عورتوں کا مکسڈ مجالس میں جانا مردوں کے سامنے اپنا منہ تنگا کر دینا اور ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرنا۔یہ سب ناجائز امور ہیں لیکن ضرورت کے موقعہ پر شریعت نے بعض امور میں انہیں آزادی بھی دی ہے۔بلکہ قرآن کریم ني إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے الفاظ استعمال فرما کر بتا دیا ہے کہ جو حصہ مجبوراً ظاہر کرنا پڑے اس میں عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں۔اس اجازت میں وہ تمام مزدور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں کھیتوں اور میدانوں میں کام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے لئے آنکھوں اور اس کے ارد گرد کا حصہ کھلا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ورنہ ان کے کام میں دقت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے ماتحت ان کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا۔( الفضل 27 جون 1958 ء جلد 47/12 نمبر 149 صفحہ 5 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مشکلات ہماری جماعت میں معمولی کام کو بڑا کام اور معمولی تکلیف کو بڑی تکلیف سمجھنے لگ پڑتے ہیں۔ایک دفعہ قادیان میں کچھ فساد ہوا اور میں نے تحقیق کے لئے ایک دوست کو جو کمہار ہیں ایک بات دریافت کرنے کے لئے بلایا۔انہوں نے سمجھا کہ میں گھبرا گیا ہوں اور مجھے تسلی دینے