تذکار مہدی — Page 40
تذکار مهدی ) 40 روایات سید نامحمود س نے زمین پر چادر بچھائی ہوئی تھی۔یہ جاتے ہی اُس پر بیٹھ گئے اور خیال کیا کہ جب لوگ مجھے یہاں چادر پر بیٹھا دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ مجھے کمرہ عدالت میں بھی اچھی جگہ ملی ہو گی۔مگر وہ جس نے خدا کے مامور کے متعلق کہا تھا کہ میں نے ہی اسے بڑھایا ہے اور اب میں ہی اسے نیچے گراؤں گا خدا نے اُسے یہاں بھی ذلیل کیا۔ابھی وہ چادر پر بیٹھے ہی تھے کہ ایک با غیرت مسلمان دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا میری چادر پلید مت کرو تم ایک مسلمان کے خلاف ایک عیسائی کے حق میں گواہی دینے آئے ہو۔آخر مولوی صاحب کو وہاں سے بھی ذلت کے ساتھ اُٹھنا پڑا۔پھر میں نے خود انہی مولوی محمد حسین صاحب کو اس حالت میں دیکھا کہ عجز اور مسکنت ان کی صورت سے ظاہر ہوتی تھی۔میں ایک دفعہ بٹالہ گیا تو وہ کسی کام کے لئے مجھ سے ملنے کے لئے آئے مگر انہیں شرم آتی تھی کہ جس شخص کی ساری عمر میں شدید مخالفت کرتا رہا اُس کے بیٹے سے کس طرح ملوں۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ وہ کمرے میں آتے اور پھر گھبرا کر نکل جاتے پھر آتے اور پھر گھبرا کر نکل جاتے چار پانچ دفعہ انہوں نے اسی طرح کیا۔ہمارے ہاں ایک ملازم ہوا کرتا تھا پیرا اُس کا نام تھا وہ بالکل ان پڑھ اور جاہل تھا۔نماز تک اُسے یاد نہیں ہوتی تھی بیسیوں دفعہ اسے یاد کرائی گئی مگر وہ ہمیشہ بھول جاتا۔اُسے کبھی تاریں دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بٹالہ بھجوا دیا کرتے تھے یا کوئی پلٹی آتی تو اُسے چھڑوانے کے لئے اُسے بٹالہ بھجوا دیا جاتا۔ایک دفعہ اسی طرح وہ کسی کام کے سلسلہ میں بٹالہ گیا ہوا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب اُسے مل گئے۔مولوی صاحب کی عادت تھی کہ وہ اسٹیشن پر جاتے اور لوگوں کو قادیان جانے سے روکا کرتے ایک دن انہیں اور کوئی آدمی نہ ملا تو پیرے کو ہی انہوں نے پکڑ لیا اور کہنے لگے۔پیرے تم مرزا صاحب کے پاس کیوں رہتے ہو وہ تو کافر اور بے دین ہیں۔وہ کہنے لگا مولوی صاحب میں تو پڑھا لکھا آدمی نہیں نماز تک مجھے نہیں آتی کئی دفعہ لوگوں نے مجھے سکھائی ہے مگر مجھے یاد نہیں ہوتی پس مجھے مسائل تو آتے ہی نہیں لیکن ایک بات ضرور ہے جو میں نے دیکھی ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے وہ کیا؟ پیرے نے کہا میں ہمیشہ تاریں دینے یا بلٹیاں لینے کے لئے بٹالے آتا رہتا ہوں اور جب بھی یہاں آتا ہوں آپ کو یہاں پھرتے اور لوگوں کو ورغلاتے دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص قادیان نہ جائے۔مولوی صاحب!