تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 862

تذکار مہدی — Page 38

تذکار مهدی ) 38 روایات سید نا محمود محمود خان صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس کے والد رحمت اللہ خان صاحب اُن دنوں شہر کے کوتوال تھے انہوں نے پولیس کا بڑا اچھا انتظام کیا مگر پھر بھی چاروں طرف سے انہیں اس قدر فساد کی رپورٹیں پہنچیں کہ انہوں نے چھاؤنی سے گورا سپاہی منگوائے اور آپ کے آگے پیچھے کھڑے کر دیئے۔پھر مجھے وہ نظارہ بھی خوب یاد ہے جبکہ قادیان میں جس کا واحد مالک ہمارا خاندان ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ کیا گیا اور لوگوں کو آپ کے گھر کا کام کرنے سے روکا گیا، چوڑ ہوں کو کہا گیا کہ وہ صفائی نہ کریں، کمہاروں کو کہا گیا کہ وہ برتن نہ بنائیں، سقوں کو کہا گیا کہ وہ پانی نہ بھریں، نائیوں کو کہا گیا کہ وہ حجامت نہ بنائیں، قلعی گروں کو کہا گیا کہ وہ آپ کے برتنوں پر قلعی نہ کریں۔غرض نہ کوئی صفائی کرتا، نہ کوئی قلعی کرتا بڑی مصیبت سے ارد گرد کے گاؤں والوں سے اِن ضروریات کو پورا کیا جاتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازے پر آپ کی مسجد کے سامنے دیوار کھینچ دی گئی تاکہ کوئی شخص اس میں نماز پڑھنے کے لئے نہ آ سکے۔اسی طرح آپ پر مختلف قسم کے مقدمات دائر کئے گئے اور بڑوں اور چھوٹوں سب نے مل کر چاہا کہ آپ کو مٹادیا جائے۔یہاں تک کہ ایک پادری نے آپ پر اقدام قتل کا نہایت جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا اور ایک شخص کو پیش کیا جو کہتا تھا کہ مجھے مرزا صاحب نے اس پادری کو قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔آخر اسی شخص نے عدالت کے سامنے اقرار کیا کہ مجھے جھوٹ سکھایا گیا تھا تا کہ کسی طرح مرزا صاحب سزا یاب ہوں ورنہ وہ اس الزام سے بالکل بری ہیں۔کرنل ڈگلس جو ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر تھے اُن کے سامنے ہی مقدمہ پیش ہوا اور باوجود اس کے کہ یہ مقدمہ عیسائیوں کی طرف سے تھا اور اس بناء پر تھا کہ مرزا صاحب اسلام کی تائید کرتے اور عیسائیوں کو دجال قرار دیتے ہیں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی عیسائیوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف گواہی دینے کے لئے عدالت میں پیش ہوئے۔یہ وہی شخص تھے جنہوں نے کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی انہیں گراؤں گا۔مسٹر ڈگلس جن کے سامنے یہ کیس پیش ہوا ( اور جو 25 فروری 1957ء کو لنڈن میں وفات پاگئے ہیں ) پہلے ایسے متعصب عیسائی تھے کہ جب وہ گورداسپور آئے تو انہوں نے آتے