تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 736 of 862

تذکار مہدی — Page 736

تذکار مهدی ) 736 روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہا کیا جب تمہیں محمد کہا جاتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے اعلام اور صفات بھی تم میں آجاتے ہیں اور پھر جب تمہیں عرش پر بٹھایا جاتا ہے تو علم غیب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔کہنے لگا ہوتا تو کچھ بھی نہیں یونہی آواز آتی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو یہ شیطان ہے جو تم سے جنسی اور ٹھٹھا کر رہا ہے ورنہ اگر خدا کی طرف سے واقعہ میں تمہیں مخاطب کیا جائے تو پھر یہ باتیں کیوں حاصل نہ ہوں۔(حقیقۃ الرؤيا، انوار العلوم جلد چہارم صفحہ 180) حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کی مالی قربانیاں اس دفعہ ہمارے سلسلہ میں سے چند دوست ہم سے جدا ہو گئے جن کے ساتھ بعض خصوصیات وابستہ تھیں۔ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسے زمانہ میں قبول کیا جبکہ چاروں طرف مخالفت زوروں پر تھی اور پھر طالب علمی کے زمانہ میں قبول کیا اور مولویوں کے گھرانہ میں قبول کیا۔آپ کا ایسے خاندان کے ساتھ تعلق تھا کہ جس کا یہ فرض سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود سے دنیا کو روکیں۔اور اُس وقت ساری دنیا آپ کی مخالفت پر تکی ہوئی تھی۔پس ان کا ایسے حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنا اُن کی بہت بڑی سعادت پر دلالت کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب پر مخالفت کا زمانہ ہی نہیں آیا۔جب اُنہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود کا دعوی سُنا تو آپ نے سنتے ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوئی کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔حضرت صاحب نے اُن کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمه گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہورہا ہے لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب تک پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ قریباً 450 روپے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اُسی وقت حضرت صاحب کی