تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 733 of 862

تذکار مہدی — Page 733

تذکار مهدی ) 733 روایات سید نا محمود کے لئے ہاتھ نیچے باندھنے کی رسول کریم ﷺ نے اجازت دے دی مگر جو ہمت والا اور قوی اور تندرست ہے اور سپاہیانہ روح اپنے اندر رکھتا ہے اس کے لئے ہاتھ اوپر باندھنے کا حکم دے دیا۔اس طرح ایک ہی کلمہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تمام جھگڑے طے کر دیئے اور ان نادانوں کو جو رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث کو ضعیف اور دوسری کو قوی قرار دیتے تھے بتا دیا کہ دونوں حدیثیں ہی قوی ہیں البتہ تم ان کا مفہوم سمجھنے میں ضعیف ہو۔غرض رسول کریم علی کے کلام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کے فائدے کے لیئے ہیں، ہر زمانہ کے لئے ہیں اور ہر حالت کے لیئے ہیں اور ان میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں۔ان حکمتوں کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی لوگ ان بحثوں میں پڑ جاتے ہیں کہ فلاں حدیث ضعیف ہے اور فلاں قومی۔حدیثوں میں سے بعض ضعیف بھی ہوتی ہیں مگر وہی حدیثیں ضعیف ہوتی ہیں جو اصول دین یا اصول اخلاق کے خلاف ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعویذ دبینا خطبات محمود جلد 22 صفحہ 122 تا 124 ) ایک سوال پیش کیا گیا کہ جماعت میں ایسے لوگ ہیں جو تعویذ اور ٹونے کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے میرے نزدیک یہ نہایت ہی کمزوری ایمان کی علامت ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک تعویذ دیا تھا۔اس میں شبہ نہیں کہ دیا تھا مگر وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ نور الدین صاحب جموں والے کے ہاں کوئی لڑکا نہ تھا انہوں نے مجھے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ان کو تعویذ لے دوں۔میری اس وقت بہت چھوٹی عمر تھی میں حضرت صاحب کے پیچھے پڑ گیا آپ نے دعا لکھ کر دی جو میں نے خلیفہ صاحب کو دے دی وہ دعا قبول ہوگئی اور خلیفہ صاحب کو خدا تعالیٰ نے نرینہ اولا د دی دراصل وہ دعا جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھی اسی وقت قبول ہو چکی تھی۔آگے اس تعویز کو باندھنا خلیفہ صاحب کا کام تھا اس کا دعا کی قبولیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔پس لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ اگر دعا کولکھ لیا جائے اور لٹکا دیا جائے تب وہ قبول ہوتی ہے بیہودہ و ہم پیدا کرتا اور ذکر الہی کرنے کی جڑ کاٹتا ہے۔بعض اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 12 صفحہ 606)