تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 704 of 862

تذکار مہدی — Page 704

704 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود بہت نصیحتیں کیں مگر انہوں نے خیال کیا ہمارا فیصلہ سوائے انگریز عدالت کے نہیں ہوسکتا ہر ایک کو دوسرے پر بدظنی تھی اور خیال کرتا تھا کہ میں نے اگر بات مان لی تو دوسرے کو فائدہ ہو جائے گا اس لئے انہوں نے ایک دوسرے پر سرکاری عدالت میں نالش کر دی پھر جس دن ان کے مقدمہ کی پیشی ہو وہ خود یا ان کے قائمقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہیں کہ آپ دعا کریں خدا کامیابی دے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت ہنسا کرتے اور فرماتے دونوں میرے مرید ہیں اور دونوں سے مجھے تعلق ہے میں کس کے لئے دعا کروں کہ وہ ہارے اور کس کے لئے دعا کروں کہ وہ جیتے ہم تو یہی دعا کرتے ہیں دونوں میں سے جو سچا ہے وہ جیت جائے اور اسے اپنا حق مل جائے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ایک مالن کی مثال بیان فرمایا کرتے۔فرماتے اس کی دولڑکیاں تھیں ایک گھماروں کے گھر بیاہی ہوئی تھی۔دوسری مالیوں کے ہاں جب کبھی بادل آتا۔تو وہ عورت دیوانہ وار گھبرائی ہوئی پھرتی۔لوگ کہتے اسے کیا ہوا ہے۔وہ کہتی ایک بیٹی ہے نہیں۔اگر بارش ہو گئی تو جو گھماروں کے ہاں ہے وہ نہیں اور اگر نہ ہوئی تو جو مالیوں کے گھر ہے وہ نہیں کیونکہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے ترکاریاں نہ ہوں گی اور اگر ہو گئی تو گھمارن کے برتن خراب ہو جائیں گے۔(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 211-210) خواہشات بلند رکھنی چاہئیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ یہاں ایک چوہڑا تھا جو اصطبل وغیرہ میں اور ہمارے گھر میں کام کرتا تھا۔فرماتے تھے ایک دفعہ بچپن میں ہم نے کھیلتے ہوئے ہمجولیوں سے دریافت کرنا شروع کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے پھر اس بچپن کی عمر کے لحاظ سے اس سے بھی دریافت کیا کہ تمہاری کیا خواہش ہے اور کس چیز کو سب سے زیادہ تمہارا دل چاہتا ہے۔اس نے جواب دیا۔میرا دل اس بات کو چاہتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا بخار چڑھا ہوا ہو، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہو، سردی کا موسم ہو، میں لحاف اوڑھے چار پائی پر لیٹا ہوا ہوں اور دو تین سیر کھنے ہوئے چنے میرے سامنے رکھے ہوں اور میں انہیں ٹھونکتا جاؤں یعنی ایک ایک کر کے کھاتا جاؤں۔یہ تھی اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کسی سننے والے نے کہا۔تم نے اس میں بخار کی شرط کیوں لگائی ہے تو اس نے کہا اس لئے کہ پھر مجھے کوئی کام کے لئے نہیں بلائے گا۔(خطبات محمود جلد 18 صفحہ 47-46)