تذکار مہدی — Page 32
تذکار مهدی ) 32 روایات سید نا محمود موجود تھے۔آپ نے اُن سے کہا کہ مولوی صاحب ! مجھے معلوم نہیں آپ کے کیا عقائد ہیں۔پہلے آپ اپنے عقائد بیان کریں اگر وہ غلط ہوئے تو میں ان کی تردید کروں گا اور اگر صحیح ہوئے تو انہیں تسلیم کرلوں گا۔مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر ایک مختصر تقریر کی جس میں بیان کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر، قرآن کریم پر اورمحمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔قرآن چونکہ خدا تعالیٰ کا ایک یقینی اور قطعی کلام ہے اس لئے ہم اسے سب سے مقدم قرار دیتے ہیں اور جو کچھ قرآن میں لکھا ہے اسے مانتے ہیں۔دوسرے نمبر پر ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ہمارے لئے قابل عمل ہے اور اگر کوئی حدیث قرآن کے مخالف ہو تو اس صورت میں ہم قرآن کریم کے بیان کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر کوئی بات ہمیں قرآن اور حدیث دونوں میں نظر نہ آئے تو پھر قرآن اور حدیث کی روشنی میں جو کچھ ہمیں سمجھ آئے اس پر ہم عمل کرتے ہیں۔جب انہوں نے یہ تقریر کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے سن کر فرمایا یہ تو بالکل ٹھیک باتیں ہیں ان میں سے کسی کی تردید کی ضرورت نہیں۔وہ ہزاروں آدمی جو آپ کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے اُن سب نے کھڑے ہو کر آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور بُرا بھلا کہنے لگے کہ تم ڈرپوک ہو، بزدل ہو، ہار گئے ہو۔غرض آپ پر خوب نعرے کیسے گئے۔آپ گئے تھے ہزاروں کے ہجوم میں اور نکلے ایسی حالت میں جبکہ لوگ آپ کو بُرا بھلا کہہ رہے تھے۔گئے تھے ایسی حالت میں کہ لوگ سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ کہتے جا رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ہم اسلام کا ایک پہلوان اپنے ساتھ لئے جا رہے ہیں مگر نکلے ایسی حالت میں کہ لوگ آپ کو ایک بھگوڑا قرار دے رہے تھے اور آپ کے خلاف نعرے گس رہے تھے۔مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور وہاں سے واپس چل پڑے۔اُسی رات آپ پر الہام نازل ہوا کہ:۔تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ غرض آپ پر یہ الہام ہوا اور آپ نے اُسی وقت اس الہام کو دنیا میں شائع کر دیا۔تب دنیا میں چاروں طرف سے آپ کے خلاف آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئیں۔بعضوں نے کہا مگار