تذکار مہدی — Page 658
تذکار مهدی ) کارمهدی 658 روایات سید نا محمودی گے۔تمہیں اس وقت تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ بات سن کر اس لڑکی نے نہایت حیرت کے ساتھ اپنی مالکہ کے چہرہ کی طرف دیکھا کہ یہ مجھ سے کیا کہہ رہی ہے اور کہنے لگی بی بی نماز میں نہیں پڑھتی روزہ میں نہیں رکھتی۔اگر سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں۔درحقیقت یہ تصویری زبان میں مسلمانوں کی حالت ہی بیان کی گئی ہے۔دوسرے لفظوں میں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اگر کسی مسلمان کو کہا جائے کہ میاں جمعۃ الوداع سے کیا بنتا ہے۔تم کیوں خواہ مخواہ اس کے لئے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے ہو۔تو وہ حیرت سے تمہارے منہ کو دیکھنے لگ جائے گا اور کہے گا بھائی جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔روزانہ نمازوں کے لئے میں مسجد میں نہیں جاتا۔روزے میں نہیں رکھتا۔اگر جمعتہ الوداع بھی نہ پڑھوں تو کافر ہی ہو جاؤں۔پس یہ بھی ایک ہنسی ہی ہے کہ ایک وقت آکر نماز پڑھ لی اور سمجھ لیا کہ ہمارے سب فرائض ادا ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی کئی دفعہ ذکر فرمایا کرتے تھے۔قرآن کریم میں مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَہ والی آیت جو آتی ہے۔اس آیت کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ واقعہ بیان کیا کرتے تھے۔بلکہ اس آیت کا شان نزول بھی بعض لوگ اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں۔بدر کی جب لڑائی ہوئی تو صحابہ نے اس جنگ میں بڑی بڑی قربانیاں کیں۔ایسی قربانیاں کہ ان واقعات کو پڑھ کر دل ان کی محبت سے لبریز ہو جاتا ہے۔( الفضل 17 /اکتوبر 1942ءجلد 30 نمبر 242 صفحہ 5,4) محنت سے کام آسان ہو جاتا ہے میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو بارہا اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کو صحیح طور پر کبھی سرانجام نہیں دے سکتے جب تک وہ یہ پختہ عزم نہ کر لیں کہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اسے ہم نے جلد سے جلد اور اچھے طریق پر سرانجام دینا ہے یہ کہنا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں اس سے کوئی تغیر پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ تغیر اگر چاہیں“ سے نہیں بلکہ چاہنے اور پھر عمل کرنے سے ہوا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک امیر آدمی تھا اس کا ایک بڑا لنگر تھا۔جس سے محتاج لوگ کثیر تعداد میں روزانہ کھانا "