تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 862

تذکار مہدی — Page 601

تذکار مهدی ) 601 روایات سید نا محمودی ضرور قادیان آجاتے تھے اور چونکہ ایک چھٹی سے فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے۔جب تک ساتھ ہفتہ کا کچھ وقت نہ ملے اس لئے جس دن ان کے قادیان آنے کا موقع ہوتا۔تو ان کا افسر دفتر والوں سے کہہ دیتا کہ آج جلدی کام ختم ہونا چاہئے کیونکہ منشی جی نے قادیان جانا ہے۔اگر وہ نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں برباد ہو جاؤں گا اور اس طرح ہمیشہ ان کو ٹھیک وقت پر فارغ کر دیتا۔افسر گو ہندو تھا مگر آپ کی نیکی ، تقویٰ اور قبولیت دعا کا اس پر ایسا اثر تھا کہ وہ آپ ہی آپ ان کے لئے قادیان آنے کا وقت نکال دیتا اور کہتا کہ اگر یہ قادیان نہ جا سکے تو ان کے دل سے ایسی آہ نکلے گی کہ میں نہیں بچ سکوں گا۔تو انسان جیسا اللہ تعالیٰ سے معاملہ کرتا ہے۔ویسا ہی وہ اس سے کرتا ہے۔پس جس رنگ میں انسان اپنے دل کو اس کے لئے پگھلاتا ہے۔اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔دنیا اسے مارتی ہے گالیاں دیتی ہے اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے۔مگر وہ ہر دفعہ دبائے جانے کے بعد گیند کی طرح پھر ابھرتا ہے۔ایسے مومنوں کو ہر طرح کی روکوں کے باوجود اللہ تعالیٰ بڑھاتا ہے اور یہی حقیقی جماعت ہوتی ہے جو ترقی کرتی ہے۔پس اپنے دلوں کو ایسا ہی بناؤ اور ایسی محبت سلسلہ کے لئے پیدا کرو۔پھر دیکھو تمہیں اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو تو مانگنا بھی نہیں پڑتا۔بعض وقت وہ ناز کے انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نہیں مانگیں گے اور اللہ تعالیٰ خود بخودان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی میں نے یہ واقعہ بھی سنا ہے کہ ایک بزرگ تھے ایک دفعہ ان پر ایسی حالت آئی۔کہ وہ سخت مصیبت میں تھے۔کسی نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ اگر میرا رب مجھے نہیں دینا چاہتا تو میرا دعا کرنا گستاخی ہے۔جب اس کی مرضی نہیں تو میں کیوں مانگوں اس صورت میں تو میں یہی کہوں گا کہ مجھے نہ ملے اور اگر وہ دینا چاہتا ہے تو میرا مانگنا بے صبری ہے۔یہ مطلب نہیں کہ وہ دعا کرتے ہی نہیں۔بلکہ کبھی کبھی کامل مومنوں پر ایسی کیفیات آتی ہیں کہ وہ کہتے ہیں۔اچھا ہم مانگیں گے نہیں۔اللہ تعالیٰ خود ہماری ضرورت کو پورا کرے گا۔مگر یہ مقام یونہی حاصل نہیں ہوتا۔یہ مت خیال کرو کہ تم یونہی بیٹھے رہو۔اپنے قلوب میں محبت نہ پیدا کرو۔نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا نہ کرو۔صدقہ و خیرات اور چندوں میں غفلت کرو۔جھوٹ اور فریب سے کام لیتے رہو اور پھر بھی