تذکار مہدی — Page 588
تذکار مهدی ) 588 روایات سید نا محمودی بنانے کے لئے آیا ہوں۔انہیں اطلاع دے دی جائے۔لیکن وہ دوست مجھے بڑے اصرار سے کہنے لگے کہ ان کی نیند خراب نہ کریں۔لیکن میں نے نہ مانا اور میاں صاحب کو اطلاع بھجوا دی۔جس پر انہوں نے مجھے بھی اور اس دوست کو بھی اندر بلالیا۔وہاں ایک چار پائی پڑی ہوئی تھی۔میں نے انہیں کہا کہ اس پر بیٹھ جائیے۔کہنے لگے میں نہیں بیٹھتا۔میں نے سمجھا کہ شاید یہ چار پائی پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔اس لئے میں ان کے لئے کرسی اٹھا لایا۔لیکن وہ کرسی پر بھی نہ بیٹھے اور دروازہ کے سامنے جہاں جو تیاں رکھی جاتی ہیں۔وہاں پائیدان پر جا کر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ کیا کیا۔میں نے چار پائی دی لیکن آپ نہ بیٹھے۔پھر کرسی دی تب بھی آپ نہ بیٹھے اور ایک ایسی جگہ جا کر بیٹھ گئے۔جہاں بوٹ وغیرہ رکھے جاتے ہیں۔کہنے لگے میں تمہیں ایک قصہ سناؤں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا صحابی ہوں میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ملنے کے لئے آیا۔آپ مسجد مبارک میں بیٹھے تھے اور دروازہ کے پاس جوتیاں پڑی تھیں۔ایک آدمی سیدھے سادھے کپڑوں والا آگیا اور آکر جوتیوں میں بیٹھ گیا۔میں نے سمجھا کہ یہ کوئی جوتی چور ہے۔چنانچہ میں نے اپنی جوتیوں کی نگرانی شروع کر دی کہ کہیں وہ لے کر بھاگ نہ جائے۔کہنے لگے اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فوت ہو گئے اور میں نے سنا کہ آپ کی جگہ کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ہے اس پر میں بیعت کرنے کے لئے آیا۔جب میں نے بیعت کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ وہی شخص تھا جس کو میں نے اپنی بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا۔یعنی حضرت خلیفہ اول اور میں اپنے دل میں سخت شرمندہ ہوا۔آپ کی عادت تھی کہ آپ جو تیوں میں آکر بیٹھ جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آواز دیتے تو آپ ذرا آگے آجاتے۔پھر جب کہتے مولوی نورالدین صاحب نہیں آئے۔تو پھر کچھ اور آگے آ جاتے۔اس طرح بار بار کہنے کے بعد کہیں وہ آگے آتے تھے یہ قصہ سنا کر میں نے انہیں کہا میاں۔آپ کے باپ نے جوتیوں میں بیٹھ بیٹھ کر خلافت لی تھی۔لیکن تم زور سے لینا چاہتے ہو۔اس طرح کام نہیں بنے گا۔تم اپنے باپ کی طرح جوتیوں میں بیٹھو اور اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرو۔اس پر وہ چپ کر گیا۔اور میری اس بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ہم نے خود حضرت خلیفہ اول کو دیکھا ہے۔آپ مجلس میں بڑی مسکنت سے بیٹھا کرتے تھے۔ایک دفعہ مجلس میں شادیوں کا ذکر ہورہا تھا ڈپٹی محمد شریف صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہیں سناتے ہیں کہ