تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 862

تذکار مہدی — Page 581

تذکار مهدی ) 581 روایات سید نا محمود توضیح مرام کی اشاعت کے زمانہ میں کہا۔جو بیعت سے قریباً دو سال بعد ہوا اور انہیں میں مسئلہ اجرائے نبوت کی بنیاد رکھی۔جب اس شخص نے آپ کی کتب میں نبوت کے جاری ہونے کے متعلق پڑھا تو اس نے کہا اب تو یقیناً مولوی نورالدین صاحب مرزا صاحب کو چھوڑ دیں گے۔کیونکہ مولوی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت رکھتے ہیں۔جب وہ یہ سنیں گے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی آسکتا ہے تو وہ مرزا صاحب کے مرید نہیں رہیں گے۔چنانچہ اس شخص نے اپنے ساتھ ایک پارٹی لی اور خراماں خراماں حضرت مولوی صاحب کی طرف چلے۔جب آپ کے پاس پہنچے تو اس شخص نے حضرت مولوی صاحب سے کہا۔میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے کہا فرمایئے کیا پوچھنا چاہتے ہیں۔اس شخص نے کہا اگر کوئی شخص کہے کہ میں اس زمانہ کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں نبوت جاری ہے۔تو آپ اس کے متعلق کیا خیال کریں گے۔اس شخص نے تو یہ خیال کیا تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس جارہا ہوں۔لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں ایک مولوی کے پاس نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کے پاس جا رہا ہوں۔جس سے اللہ تعالیٰ اپنے سلسلہ کا کام لینا چاہتا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔اس سوال کا جواب تو دعوی کرنے والے کی حالت پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس دعویٰ کا مستحق ہے یا نہیں۔اگر یہ دعویٰ کرنے والا انسان راستباز نہ ہوگا۔تو ہم اسے جھوٹا کہیں گے اور اگر دعوی کرنے والا کوئی راستباز انسان ہے تو میں یہ سمجھوں گا کہ غلطی میری ہے۔حقیقت میں نبی آ سکتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے اس شخص نے جب میرا یہ جواب سنا۔تو وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔چلو جی ایہہ بالکل خراب ہو گئے ہیں۔اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے۔اس پر میں نے اسے کہا۔مجھے یہ تو بتا دو کہ بات کیا تھی تو اس نے کہا بات یہ ہے کہ آپ کے مرزا صاحب نے یہ دعوی کیا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوتا ہے اور میں ایک نبی کے مشابہ ہوں۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا بے شک مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے۔مجھے اس پر ایمان ہے۔حضرت خلیفہ اول اس زمانہ میں اچھی شہرت رکھتے تھے۔آپ دلیری اور بہادری کے ساتھ کام کرنے والے تھے۔اس کے علاوہ آپ بہت مخیر انسان تھے۔غریبوں کو تعلیم دلانے کا آپ کو بہت شوق تھا اور آپ غریب بیماروں کا علاج بھی