تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 862

تذکار مہدی — Page 19

تذکار مهدی ) 19 روایات سید نا محمود لیا تو ہمارے خاندان کے افراد کپورتھلہ میں چلے گئے اور وہاں کی ریاست نے ان کو گزارہ کے لیئے دو گاؤں دے دیئے۔کپورتھلہ میں ہی ہمارے پردادا صاحب فوت ہو گئے تھے۔ہمارے دادا کی عمر اُس وقت سولہ سال تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پر دادا اپنے والد کے برخلاف جو بہت بڑے پارسا اور عزم کے مالک تھے کم ہمت تھے اور اسی وجہ سے ہمارے خاندان کو یہ ذلت پہنچی لیکن ہمارے دادا ہمت والے تھے۔اُس وقت جب ہمارے پر دادا فوت ہوئے وہ صرف سولہ سال کے تھے لیکن انہوں نے کہا میں اپنے باپ کو قادیان میں ہی دفن کروں گا۔چنانچہ وہ اُن کی لاش یہاں لائے سکھوں نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا مگر کچھ تو اُن کی دلیری کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ہمارے آباء اس علاقہ پر حکمران رہ چکے تھے سارے علاقہ میں شورش ہو گئی اور لوگوں نے کہا ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کو اب یہاں دفن ہونے کے لئے بھی جگہ نہ دی جائے۔چنانچہ سکھوں نے اجازت دے دی اور وہ انہیں قادیان میں دفن کر گئے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے دادا نے جب یہ سلوک دیکھا تو انہوں نے کہا چونکہ اس زمانہ میں ساری عزت علم سے ہے اس لئے میں اب علم حاصل کر کے رہوں گا تا کہ ہمارے خاندان کو عزت حاصل ہو۔چنانچہ انہوں نے گھر کو چھوڑ دیا اور دتی چلے گئے۔اُن کے ساتھ اُس زمانہ کے طریق کے مطابق ایک میراثی بھی چل پڑا۔اُنہوں نے سنا ہوا تھا کہ مساجد میں تعلیم کا انتظام ہوتا ہے جہاں لڑکے پڑھتے ہیں۔وہ بھی گئے اور ایک مسجد میں جا کر بیٹھ گئے مگر کسی نے اُن کو پوچھا تک نہیں یہاں تک کہ تین چار دن فاقہ سے گزر گئے تیسرے چوتھے دن کسی غریب کو خیال آیا اور وہ رات کے وقت انہیں ایک روٹی دے گیا مگر معلوم ہوتا ہے وہ کوئی بہت ہی غریب شخص تھا کیونکہ روٹی سات آٹھ دن کی تھی اور ایسی سوکھی ہوئی تھی جیسے لوہے کی تھالی ہوتی ہے۔وہ اپنے ہاتھ میں روٹی لے کر انتہائی افسردگی کے عالم میں بیٹھ گئے اور حیرت سے منہ میں اُنگلی ڈال کر اپنی حالت پر غور کرنے لگے کہ کس حد تک ہماری حالت گر چکی ہے۔میراثی اُن کے چہرے کے رنگ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس وقت یہ سخت غم کی حالت میں ہیں اور اُس نے خیال کیا کہ ایسا نہ ہو یہ صدمے سے بیمار ہو جائیں، میراثیوں کو چونکہ ہنسی کی عادت ہوتی ہے اس لئے اُس نے سمجھا کہ اب مجھے کوئی مذاق کر کے ان کی طبیعت کا رُخ کسی اور طرف بدلنا چاہئے۔چنانچہ وہ مذاقاً کہنے لگا۔مرزا جی! میرا حصہ۔وہ