تذکار مہدی — Page 546
6546 تذکار مهدی ) روایات سیّد نا محمود جموں سے قادیان آ رہا تھا کہ ایک سکھ لڑکا مجھے ملا اور اُس نے کہا میں پہلے بڑا نیک ہوا کرتا تھا لیکن اب میرے دل میں دہریت کے خیال پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔آپ مرزا صاحب سے میرا ذکر کریں اور اُن سے اس کا علاج دریافت کر کے مجھے بتائیں۔وہ سکھ لڑکا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بڑا معتقد تھا اور آپ کی کتابیں پڑھا کرتا تھا۔چنانچہ آپ فرماتے تھے کہ قادیان میں آکر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اُس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے دائیں بائیں دہریت کے خیالات رکھنے والے لڑکے بیٹھتے ہیں۔کسے کہیں کہ وہ اپنی جگہ بدل لے۔اُس کے خیالات درست ہو جائیں گے۔حضرت خلیفہ اُسیج الاول فرمایا کرتے تھے میں نے اُس سکھ لڑکے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچا دیا۔چنانچہ اس نے اپنی جگہ بدل لی۔جب میں دوبارہ قادیان آنے لگا تو مجھے نتیجہ معلوم کرنے کا شوق تھا۔وہ میرے پاس آیا تو میں نے اُس سے دریافت کیا کہ اب کیا حال ہے؟ اُس نے کہا جس دن سے میں نے اپنی جگہ بدلی ہے میرے سارے وساوس دور ہونے شروع ہو گئے ہیں۔۔یہی بات یہاں ہے۔اگر بعض لوگ کسی شخص کو اپنا دشمن خیال کریں اور اُس پر توجہ کرنا شروع کر دیں کہ وہ بیمار ہو جائے تو آہستہ آہستہ اُس کا دماغ اثر قبول کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ میں بیمار ہوں۔مجھ پر بھی یہی اثر ہوا مگر 29 جولائی کو 5 بجے صبح مری میں اللہ کی طرف سے یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ اللہ تعالٰی نے تو مجھے بالکل اچھا کر دیا مگر میں اپنی بدظنی اور مایوسی کی وجہ سے اپنے آپ کو بیمار سمجھتا ہوں“۔یعنی مجھے اپنے نفس پر بدظنی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو پوری طرح جذب نہیں کرتا اور بیماری کے متعلق یہ مایوسی ہے کہ وہ ابھی دور نہیں ہوئی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بالکل صحت عطا فرما دی ہے۔عجیب بات ہے کہ یہی بات مجھے جرمنی اور سوئٹزر لینڈ کے ڈاکٹروں نے کہی۔ایک بہت بڑے ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ آپ بالکل اچھے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ میرے علاوہ یہاں کے سوا چھے ڈاکٹروں سے بھی اپنا معائنہ کرائیں تو وہ یہی کہیں گے کہ آپ بالکل اچھے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ آپ انہیں بتائیں نہیں کہ آپ پر فالج کا حملہ ہو چکا ہے۔اگر آپ بتا دیں گے تو وہ بھی وہم کرنے لگ جائیں گے۔پھر اُس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ