تذکار مہدی — Page 545
تذکار مهدی ) 545 روایات سید نا محمود میں خدمت دین کے لیے کتنا جوش ہے۔وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کی تھیں اُن میں سے کئی ہیں جن کی اولاد نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف نہیں کیں۔صرف میری اولاد نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کی ہیں۔خدا کرے کہ ان کا دین کی خدمت کے لیے یہ جوش قائم رہے اور آگے انکی اولاد در اولا دا پنی زندگیاں دین کی خدمت کے لیے وقف کرتی چلی جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی اولاد کو بھی یہ سمجھ آجائے کہ پندرہ سو یا دو ہزار روپیہ ماہوار کمانا کوئی چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان دین کی خدمت میں اپنی زندگی گزارے۔باقی میرے ساتھ وقف کرنے والوں میں سے ایک چوہدری فتح محمد صاحب سیال تھے۔چوہدری صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ انہوں نے اپنے ایک لڑکے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے بعد دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔دوسرے درد صاحب تھے اگر ان کی اولاد میں سے کوئی لڑکا اچھا پڑھ جاتا تو وہ اُسے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے۔مگر کچھ ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ ابھی تک ان کی اولاد میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ دین کے لیے اپنی زندگی وقف کر سکے۔باقی سب لوگوں کے خانے خالی ہیں۔حالانکہ اسلام دنیا میں اُس وقت تک کبھی غالب نہیں آ سکتا جب تک مسلسل اور متواتر ہم میں زندگیاں وقف کرنے والے لوگ پیدا نہ ہوں۔(الفضل 29 اکتوبر 1955 ء جلد 44/9 نمبر 253 صفحہ 4) سکھ لڑکا دہریت کے خیالات خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے یہ لوگ باوجود ارادہ کے میری غیر حاضری میں کچھ نہ کر سکے بلکہ ان کی شرارت کا کھسکتے کھسکتے میری واپسی تک آ گیا۔چنانچہ جو گواہیاں ملی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ بات در اصل اس وقت شروع ہو گئی تھی جب میں ولایت گیا تھا لیکن وہ نکلی اس وقت جب میں واپس آ گیا تھا تا اگر کوئی کارروائی کی جائے تو میرا وجود اور میری دعائیں بھی اس کے ساتھ شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ جتنی گواہیاں ملی ہیں۔وہ بتاتی ہیں کہ یہ فتنہ اس وقت اٹھایا گیا تھا۔جب مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا تھا۔26 فروری 1955ء کو مجھ پر بیماری کا حملہ ہوا تھا اور یہ باتیں مارچ 1955 ء کی ہیں لیکن ظاہر ہوئیں 1956ء میں آکر اور اب میں ان کا ہر طرح مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں حضرت خلیفہ امسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں۔۔۔۔۔۔