تذکار مہدی — Page 527
تذکار مهدی ) 527 نامحمودی روایات سیّد نا محمود جب طاعون آتی ہے تو وہی شخص جس کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے وہ آتی ہے۔خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ اگر یہ لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بددعا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ انہی کے بچانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔اگر وہ ان کے لئے بددعا کرے گا تو وہ بچائے گا کس کو؟ احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ اسلام کو بچائے۔احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچائے۔انسان کی عظمت انہیں واپس دلائے۔بنو عباس اور بنو امیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کو جو شوکت اور عظمت حاصل تھی۔آج وہی شوکت اور عظمت احمدیت مسلمانوں کو دینا چاہتی ہے مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ بنو عباس اور بنو امیہ کی خرابیاں ان میں نہ آئیں۔پس جن لوگوں کو اعلیٰ مقامات پر پہنچانے کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے۔ان کے لئے ہم بددعا کیسے کر سکتے ہیں۔آخر تم سے زیادہ خدا تعالیٰ کی غیرت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کا خر کنند دعوي پیمبرم اس میں خدا تعالٰی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کو مخاطب کرتے ہوئے آپ کے منہ سے کہلاتا ہے۔اے میرے دل تو ان لوگوں کے خیالات ، جذبات اور احساسات کا خیال رکھا کرتا ان کے دل میلے نہ ہوں۔یہ نہ ہو کہ تنگ آکر بددعا کر نے لگ جائے۔آخر ان کو تیرے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور وہ اسی محبت کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تجھے گالیاں دیتے ہیں۔خطبات محمود جلد 33 صفحہ 222-221) بيت الدعا ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نمونہ راہنما ہے۔آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ایک نمونہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے بیان فرمایا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی ترقی میں طاعون کا بڑا حصہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے طاعون کے بڑے زور سے پھیلنے دیر تک قائم رہنے اور اس سے لاکھوں جانوں کے تلف ہونے