تذکار مہدی — Page 503
تذکار مهدی ) 503 روایات سید نا محمود نے جو ریویو کیا اس میں لکھا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد تیرہ سو سال کے عرصہ میں کسی ایک شخص نے بھی اپنے قول اور عمل سے اسلام کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی حضرت مرزا صاحب نے کی ہے۔مگر پھر وہی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تھے جنہوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور تمام ہندوستان میں آپ کی مخالفت کی آگ بھڑکائی۔محض اس لئے کہ میری ہتک ہوئی ہے، مجھ سے اپنے دعوی کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے مشورہ کیوں نہیں کیا۔اور دراصل پہلا غصہ انہیں آپ پر یہی تھا۔چنانچہ جب کسی شخص نے انہیں بتایا کہ آپ ایک ایسی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں وفات مسیح کا ذکر آتا ہے۔تو مولوی محمد حسین بٹالوی کہنے لگے کہ ہم سے تو انہوں نے کوئی ذکر نہیں کیا۔پھر اسی غصہ میں وہ سارے ہندوستان میں پھرے اور آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اور کہا کہ میں نے ہی اس شخص کو اونچا کیا تھا اور اب میں ہی اسے نیچے گراؤں گا۔مگر نتیجہ کیا نکلا؟ انہوں نے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ آپ کا مقابلہ کیا۔تھوڑے دنوں کے لئے ہاؤ ہوگا شور بھی مچالیا، آپ کو گالیاں بھی دی گئیں، آپ کو بُرا بھلا بھی کہا گیا۔آپ کے خلاف لوگوں کو مشتعل بھی کیا گیا مگر آخر فتح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی حاصل ہوئی۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ ملتان کسی مقدمہ میں گواہی دینے کے لئے تشریف لے گئے۔میں نے اُس وقت خواہش کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔چنانچہ آپ مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔میری عمر اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے ملتان میں کیا کیا دیکھا۔جب ہم واپس آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں بھی ایک دو دن ٹھہرے۔انہی دنوں کسی دوست نے شہر کے اندر آپ کی دعوت کی۔مجھے یہ یاد نہیں کہ وہ کھانے کی دعوت تھی یا اُس دوست نے کسی اور تقریب پر آپ کو بلایا تھا۔جس وقت آپ وہاں سے واپس آرہے تھے تو وزیر خان کی مسجد یا سنہری مسجد کے قریب بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔مفتی محمد صادق صاحب بھی اُن دنوں وہیں قریب رہتے تھے اور میاں تاج دین صاحب وہیں رہتے تھے۔میں نہیں جانتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن میں سے کس دوست کے مکان پر تشریف لے گئے تھے۔بہر حال جب واپس آئے تو مسجد کے قریب بہت بڑا ہجوم تھا اور جو نہی لوگوں نے آپ کی گاڑی دیکھی انہوں نے تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔بعض گالیاں دینے لگ گئے ، بعض نے آپ کے خلاف نعرے لگائے اور شور سے آسمان سر پر اٹھالیا۔شاید یہ نظارہ