تذکار مہدی — Page 481
تذکار مهدی ) گالیاں سن کے دعا دو 481 روایات سید نا محمود مجھے یاد ہے یہ خیال نہیں کہ میں خود اس مجلس میں موجود تھا یا نہیں لیکن سنا ہے ایک دوست تھے جن کی طبیعت بہت تیز تھی انہوں نے لاہور میں دوکان کی۔وہاں کسی شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں سخت کلمہ کہا وہ اس سے لڑ پڑے کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی شکایت کی۔آپ نے نصیحت کی اور فرمایا ایسے موقع پر صبر سے کام لینا چاہئے اگر کوئی گالی بھی دے تو خاموش رہنا چاہئے۔اس پر بجائے اس کے کہ وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے طیش میں آکر کہنے لگے۔مجھے تو آپ خاموش رہنے کی نصیحت کرتے ہیں لیکن جب آپ کے پیر ( مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی) کے خلاف کوئی کچھ کہے تو آپ کتا ہیں لکھ لکھ کر شائع کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہنس پڑے۔گو یہ جواب غلط تھا لیکن انسانی فطرت کی بڑھی ہوئی کیفیت کا ایک نظارہ تھا۔انسانی فطرت ایسے وقت میں جوش میں آجاتی ہے اور خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض حالتوں میں جوش کا اظہار جائز ہوتا ہے ورنہ جب جوش کو انتہاء سے زیادہ دبایا جائے تو یا فساد پیدا ہوتا ہے یا بے غیر تی۔پس میں نے اعلان کیا ہے اور اس پر قائم ہوں کہ ایسے لوگوں کو جوابات دیئے جائیں اور نہ صرف ان کو جوابات دیئے جائیں بلکہ ہمارے سلسلہ کے علماء کو چاہئے کہ اور بھی مختلف اعتراضات کے جوابات دیا کریں جو آریوں اور عیسائیوں کی طرف سے اسلام پر کئے جاتے ہیں اور اسلام کی تائید میں مضامین لکھیں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ہمارے اخلاق دوسروں سے بہت بلند و بالا ہونے چاہئیں۔خطبات محمود جلد 11 صفحہ 478,479) ابوسعید عرب کا قادیان آنا مجھے اس امر کی ایک مثال یاد آئی ہے کہ کس طرح بعض لوگ نرمی سے ہر قسم کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔مگر ذراسی سختی کو برداشت نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں یہاں ایک شخص جو عرب کہلاتے تھے آئے۔وہ رہنے والے تو بر ما کے تھے مگر عرب کہلاتے تھے۔ابوسعید ان کا نام تھا۔وہ یہاں رہے مگر بعد میں کچھ ابتلاء آیا۔اور چلے گئے پھر سیاسی آدمی بن گئے اور ہندوستان سے شائد ترکی چلے گئے اور غالباً وہیں فوت ہو گئے۔