تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 862

تذکار مہدی — Page 8

تذکار مهدی ) کارمهدی 8 روایات سیّد نا محمود نا جو بزرگ ہوتے ہیں کیا ان کے لئے بھی ان چیزوں کا کھانا جائز ہے۔آپ فرمانے لگے ہمارے مذہب میں فقروں کے لئے بھی یہ چیزیں جائز ہیں۔وہ کہنے لگا اچھا جی! اور یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔اب دیکھو اس شخص کو بڑا اعتراض یہی سوجھا کہ حضرت مرزا صاحب صحیح اور مہدی کس طرح ہو سکتے ہیں جب وہ پلاؤ کھاتے اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں۔اگر صحابہ کا بھی ویسا ہی علمی مذاق ہوتا جیسے آج کل احمدیوں کا ہے اور وہ کر و کا ذکر حدیثوں میں نہ کرتے تو کتنی اہم بات ہاتھ سے جاتی رہتی۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جمعہ کے دن اچھا سا جبہ پہن کر مسجد میں آئے اب اگر کوئی شخص ایسا پیدا ہو جو یہ کہے کہ اچھے کپڑے نہ پہنا فقروں کی علامت ہے تو ہم اُسے اس حدیث کا حوالہ دے کر بتا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نہایت تعہد سے صفائی کرتے اور اعلیٰ اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے بلکہ آپ صفائی کا اتنا تعبد رکھتے کہ بعض صوفیا نے جیسے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی گزرے ہیں یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا کہ وہ ہر روز نیا جوڑا کپڑوں کا پہنتے خواہ وہ دُھلا ہوا ہوتا اور خواہ بالکل نیا ہوتا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی طبیعت میں چونکہ بہت سادگی تھی اور کام کی کثرت بھی رہتی تھی اس لئے بعض دفعہ جمعہ کے دن آپ کپڑے بدلنا یا غسل کرنا بُھول جاتے تھے اور اُنہیں کپڑوں میں جو آپ نے پہنے ہوئے ہوتے تھے جمعہ پڑھنے چلے جاتے تھے۔میں نے جب آپ سے بخاری پڑھنی شروع کی تو ایک دن جب کہ میں بخاری لئے آپ کی طرف جا رہا تھا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھ لیا اور فرمایا کہاں جاتے ہو؟ میں نے عرض کیا مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔آپ نے فرمایا ایک سوال میری طرف سے بھی مولوی صاحب سے کر دینا اور پوچھنا کہ کہیں بخاری میں یہ بھی آیا ہے کہ جمعہ کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرماتے اور نئے کپڑے پہنتے تھے؟ لیکن اب ہمارے زمانہ میں صوفیت کے یہ معنی کر لئے گئے ہیں کہ انسان پراگندہ رہے گویا اگر اُس کا وزن بنایا جائے تو یوں بنے گا کہ جتنا پراگندہ اُتنا ہی خدا کا بندہ۔حالانکہ انسان جتنا گندہ ہو اتنا ہی خدا تعالیٰ سے دُور ہوتا ہے اسی لئے ہماری شریعت نے بہت سے مواقع پر غسل واجب کیا ہے اور خوشبو لگانے کی ہدایت کی ہے اور بد بودار چیزیں کھا کر مجالس میں آنے کی ممانعت کی ہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے دنیا فائدہ اُٹھاتی چلی آئی اور