تذکار مہدی — Page 449
تذکار مهدی ) خدا تعالی بخش دے تو بخش دے 449 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک نابینا حافظ تھے جن کا نام میاں محمد تھا وہ پشاور کے رہنے والے تھے۔ان میں دین کا بڑا جوش تھا اور اتنے نڈر تھے کہ اس قسم کا نڈر شخص دنیا میں بہت کم ہوتا ہے۔اگر انہیں رات کے بارہ بجے بھی خیال آجا تا کہ لوگوں کو نماز کی تلقین کرنی چاہیے تو وہ دروازے کھٹکھٹا دیتے۔اور اگر گھر والا باہر آ تا تو اُسے کہتے میاں! کیا تم نماز پڑھا کرتے ہو یا نہیں؟ اُن کی دلیری اور جرات کی وجہ سے بڑے بڑے لوگ بھی اُن سے ڈرتے تھے۔چنانچہ ایک افسر جو پشاور کے پولیٹیکل ایجنٹ ہونے والے تھے ایک دن انہوں نے ان کا دروازہ بھی کھٹکھٹا دیا۔ملازم آیا اور پوچھا کون ہو؟ انہوں نے کہا حافظ محمد ہوں اور کلمہ حق پہنچانے آیا ہوں۔پولیٹیکل ایجنٹ صاحب نے کہا کہ میں آج بہت تھکا ہوا ہوں۔انہوں نے کہا اگر مر گئے تو پھر کیا ہوگا؟ ویٹیکل ایجنٹ نے بہانہ بنا کر کہ وہ کل سارا دن انہیں دیں گے اپنا چھٹکارا کرایا اور نوکروں کو تلقین کر دی کہ دوسرے دن انہیں کوٹھی کے قریب نہ آنے دیں۔حافظ صاحب جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے آئے تو ان کے اندر بھی وہی جوش موجزن رہا۔ایک دفعہ وہ جلسہ سالانہ سے واپس گھر جا رہے تھے اور بھی کئی دوست ساتھ تھے کہ رستہ میں بحث شروع ہو گئی کہ ہم مومن ہیں یا نہیں۔پرانے طریق کے مطابق ایک شخص نے کہا کیا ہم اتنا بڑا دعویٰ کر سکتے ہیں ہم تو گنہ گار آدمی ہیں۔خدا تعالی بخش دے تو بخش دے اسی طرح دوسرے اور پھر تیسرے نے کہا۔مولوی عبدالکریم صاحب نے بھی پرانے خیالات کی رو میں بہہ کر کہہ دیا کہ ہم کمزور اور گنہگار ہیں اگر خدا تعالیٰ بخش دے تو اُس کی ذرہ نوازی ہے حافظ صاحب نے کہا اچھا آج سے میں آپ میں سے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا کیونکہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ نماز صرف مومن کے پیچھے پڑھنی چاہیے۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آکر شکایت کی۔آپ نے فرمایا حافظ صاحب کو دوسروں کے پیچھے نماز تو نہیں چھوڑنی چاہیے تھی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی بات درست ہے۔یہ انکسار کا موقع نہیں تھا بلکہ حقیقت کے اظہار کا موقع تھا۔اگر کوئی شخص آپ لوگوں سے دریافت کرے کہ کیا آپ انسان ہیں؟ تو کیا آپ یہ کہہ دیں گے کہ تو بہ تو بہ میں کہاں انسان ہوں؟ اسی طرح جو امور ایک مومن کی شان کے شایاں ہیں اُن کا واضح طور پر اقرار کرنا چاہیے۔خطبات محمود جلد 31 صفحه 110 تا 111 ) |