تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 862

تذکار مہدی — Page 422

تذکار مهدی ) 422 روایات سید نا محمودی اور لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کریں۔پس ان برکات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔اخبار ” بدر میں بھی چھپا ہوا موجود ہے اور مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ دہلی تشریف لے گئے۔تو آپ مختلف اولیاء کی قبروں پر دُعا کرنے کے لئے گئے۔چنانچہ خواجہ باقی باللہ صاحب، حضرت قطب صاحب، خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء۔شاہ ولی اللہ صاحب ، حضرت خواجہ میر درد صاحب اور نصیر الدین صاحب چراغ کے مزارات پر آپ نے دعا فرمائی۔اس وقت آپ نے جو کچھ فرمایا۔وہ جہاں تک مجھے یاد ہے گوڈائری اس طرح چھپی ہوئی نہیں۔یہ ہے کہ دلی والوں کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔ہم نے چاہا کہ ان وفات یافتہ اولیاء کی قبروں پر جا کر ان کے لئے ان کی اولادوں کے لئے اور خود دہلی والوں کے لئے دعائیں کریں۔تا کہ ان کی روحوں میں جوش پیدا ہو اور وہ بھی ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دعائیں کریں۔ڈائری میں صرف اس قدر چھپا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ہم نے قبروں پر ان کے لئے بھی دعا کی اور اپنے لئے بھی دعا کی ہے اور بعض امور کے لئے بھی دعا کی ہے۔(بدر 8 نومبر 1905ء) اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے خالی ان لوگوں کے لئے دعا نہیں کی۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قبر پر جا کر صرف مرنے والے کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔ان کا اس ڈائری سے رد ہوتا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ہم نے ان کے لئے بھی دعا کی اور اپنے لئے بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائے اور اور کئی امور کے لئے بھی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ڈائری ہے جو بدر میں چھپی ہوئی موجود ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ تھا۔گورداسپور ایک مقدمہ پر جانے سے پیشتر اس کتاب کو مکمل کر لوں اور اسے اپنے ساتھ لے جاؤں۔مگر مجھے شدید درد گردہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ کام نہیں ہو سکے گا۔اس وقت میں نے اپنے گھر والوں یعنی حضرت ام المومنین سے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں آپ آمین کہتی جائیں۔چنانچہ اس وقت میں نے صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کی روح کو سامنے رکھ کر دعا کی کہ الہی اس شخص نے تیرے لئے قربانی کی ہے اور میں اس کی عزت کے لئے یہ