تذکار مہدی — Page 420
تذکار مهدی ) 420 قرآن ق کی آواز کا فرق بیان کرنے کا اعتراض روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا۔آپ نے اسے تبلیغ کرنی شروع کی۔تو باتوں باتوں میں آپ نے فرمایا۔قرآن میں یوں آتا ہے۔پنجابی لہجہ میں چونکہ ق، اچھی طرح ادا نہیں ہو سکتا اور عام طور پر لوگ قرآن کہتے ہوئے قاریوں کی طرح ق کی آواز گلے سے نہیں نکالتے۔بلکہ ایسی آواز ہوتی ہے جو ق اورک کے درمیان درمیان ہوتی ہے۔آپ نے بھی قرآن کا لفظ اس وقت معمولی طور پر ادا کر دیا۔اس پر وہ شخص کہنے لگا بڑے نبی بنے پھرتے ہیں۔قرآن کا لفظ کہنا تو آتا نہیں۔اس کی تفسیر آپ نے کیا کرنی ہے۔جونہی اس نے یہ فقرہ کہا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو اس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اسے تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معاً ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔دوسری طرف مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بیٹھے تھے۔دوسرا ہاتھ انہوں نے پکڑ لیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر اسے تبلیغ کرنی شروع کر دی۔پھر آپ نے صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس یہی ہتھیار ہیں۔اگر ان ہتھیاروں سے بھی یہ کام نہ لیں تو۔بتلائیں اور کیا کریں۔اگر آپ یہی امید رکھتے ہیں کہ یہ بھی دلائل سے بات کریں اور صداقت کی باتیں ان کے منہ سے نکلیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو مجھے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کا مجھے بھیجنا ہی بتا رہا ہے کہ ان لوگوں کے پاس صداقت نہیں رہی۔یہی اوچھے ہتھیار ان کے پاس ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ ان ہتھیاروں کو بھی استعمال نہ کریں۔پھر دشمنان احمدیت کے ایسے ایسے گندے خطوط میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پڑھے ہیں کہ انہیں پڑھ کر جسم کا خون کھولنے لگتا تھا اور پھر یہ خطوط اتنی کثرت سے آپ کو پہنچتے کہ میں سمجھتا ہوں۔اتنی کثرت سے میرے نام بھی نہیں آتے۔میری طرف سال میں صرف چار پانچ خطوط ایسے آتے ہیں علاوہ ان کے جو بے رنگ آتے ہیں اور واپس کر دیئے جاتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ہر ہفتہ میں دو تین خط ایسے ضرور پہنچ جاتے تھے اور وہ اتنے گندے اور گالیوں سے پر ہوا کرتے تھے کہ انسان دیکھ کر حیران ہو جاتا۔میں نے اتفاقاً ان خطوط کو ایک دفعہ پڑھنا شروع کیا۔تو ابھی ایک دو خط ہی پڑھے تھے کہ میرے