تذکار مہدی — Page 414
تذکار مهدی ) 6414 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود موجود ہوتے تو اور بات تھی۔وگرنہ آپ سیڑھیوں پر آ کر انتظار میں کھڑے ہو جاتے اور پھر لوٹا لے کر منہ سے لگا لیتے۔دوسرے آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت میں بیٹھے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی آنکھیں حضور کے جسم میں سے کوئی چیز لے کر کھا رہی ہیں۔اس وقت گویا آپ کے چہرے پر بشاشت اور شگفتگی کا ایک باغ ہرا رہا ہوتا تھا۔اور آپ کے چہرہ کا ذرہ ذرہ مسرت کی لہر پھینک رہا ہوتا تھا جس طرح مسکرا مسکرا کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنتے اور جس طرح پہلو بدل بدل کر داد دیتے ، وہ قابل دید نظارہ ہوتا۔اگر اس کا تھوڑا سارنگ میں نے کسی اور میں دیکھا تو وہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔غرض مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خاص عشق تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی آپ سے ویسی ہی محبت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق تھا کہ مغرب کی نماز کے بعد ہمیشہ بیٹھ کر باتیں کرتے۔لیکن مولوی صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضور اب بیٹھتے نہیں۔تو فرمایا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی جگہ کو خالی دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔حالانکہ کون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو حتی اور دوبارہ زندگی دینے والا یقین کرتا ہو۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور ٹھنڈا پانی خطبات محمود جلد 14 صفحہ 122-121 ) | ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ ہمیں پانی پی کر کتنا آرام اور کس قدر راحت حاصل ہوتی ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو ٹھنڈے پانی کی بڑی خواہش ہوا کرتی تھی اور ان کا پانی پینے کا نظارہ بھی ایسا ہوتا تھا۔جو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔آپ کے صحابہ آپ کے ارد گرد ہوتے اور آپ مختلف باتیں بیان فرما ر ہے ہوتے۔جب بات زیادہ لمبی ہو جاتی تو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم فرماتے کہ بھئی کوئی بڑی مسجد کے کنوئیں سے جا کر پانی لے آئے۔ان دنوں اس مسجد کے کنوئیں کا پانی بہت ٹھنڈا سمجھا جاتا تھا۔اس پر کوئی نوجوان اٹھتا اور