تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 862

تذکار مہدی — Page 412

تذکار مهدی ) 412 روایات سید نا محمود بند کرتے ہیں۔کیا عجیب بات ہے کہ ان کے عقیدہ کے مطابق آنحضرت ﷺ آئے تو نبوت بند ہو گئی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تو دعا کی قبولیت کا دروازہ بند ہو گیا اور اب کوئی تیسرا مامور آیا تو شاید ایمان کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا اور دنیا میں صرف کفر ہی کفر رہ جائے گا۔خدا تعالیٰ کی مہر تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام سے ثابت ہے رحمت کے دروازے کھول دیتی ہے مگر مولوی محمد علی صاحب نے ایک ایسی مہر ایجاد کی ہے کہ ہر بھلائی اور خیر کا دروازہ بند کیا جا رہا ہے۔( خطبات محمود جلد 21 صفحہ 229-230) قبولیت دعا کی شرائط اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تمہیں چاہیے کہ تم میری باتیں مانو اور مجھ پر یقین رکھو اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے تو میں تمہاری دُعا کیسے سُن سکتا ہوں؟ پس قبولیت دعا کے لئے دو شرطیں ہیں۔اول فَلْيَسْتَجِيوالي تم میری باتیں مانو (۲) وَلْيُؤْمِنُوا بِی اور مجھ پر یقین رکھو۔جو لوگ ان شرائط کو پورا نہیں کرتے وہ دیندار نہیں۔وہ میرے احکام پر نہیں چلتے اس لئے میں بھی یہ وعدہ نہیں کرتا کہ میں ان کی ہر دُعاسنوں گا۔بیشک میں ان کی دُعاؤں کو بھی سنتا ہوں مگر اس قانون کے ماتحت ان کی ہر دعا کو نہیں سنتا۔لیکن جو شخص اس قانون پر چلتا ہے اور پھر دعائیں بھی کرتا ہے میں اس کی ہر دعا کو سنتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ بازار میں چند بنئے بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ کیا کوئی ایک پاؤ تل کھا سکتا ہو۔وہ ایک پاؤ تکل کھانا بہت بڑا کام سمجھتے تھے ان میں سے ایک نے کہا جو ایک پاؤ تل کھالے اس کو میں پانچ روپے انعام دوں گا۔پاس سے ایک زمیندار گزر رہا تھا اس نے جب سُنا کہ پاؤتل کھانے پر شرط لگی ہوئی ہے تو اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اس نے خیال کیا کہ بھلا ایک پاؤ تل کھانا کونسی بڑی بات ہے جس پر انعام دیا جائے۔ضرور اس کے ساتھ کوئی اور شرط ہو گی۔وہ آگے بڑھا اور پوچھا شاہ جی ! قتل سلیاں سمیت کھانے نے کہ بغیر سلیاں دے۔“ یعنی پھلیوں سمیت تل کھانے ہیں یا الگ کئے ہوئے بیج کھانے ہیں۔اس زمیندار کے نزدیک تو پاؤ تیل کھانا کوئی چیز نہ تھی لیکن وہ سب بنئے تھے جو آدھا پھلکا کھانے کے عادی تھے۔جب اس نے یہ کہا کہ شاہ جی کیا تل پھلیوں سمیت کھانے ہیں تو اس بنئے نے کہا چوہدری صاحب آپ جائیے ہم تو آدمیوں کی باتیں کرتے ہیں۔