تذکار مہدی — Page 400
تذکار مهدی ) 400 روایات سید نا محمودی کا اخبارات میں شائع کرنا شاید نامناسب ہو میں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ میرے اور ان کے مضامین اکٹھے شائع ہو جائیں۔بعض اہم اور ضروری امور، انوار العلوم جلد 16 صفحہ 261 تا 263) مامور کی باتوں پر عمل کرنا مومنوں کا فرض ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایک جماعت جس کے دولیڈ ر ہوں گے بہتان باندھے گی وہ لوگ جہاں بھی ہوں گے اللہ تعالی کی گرفت میں آئیں گے اور ان سے قطع تعلق کرنے کا حکم دیا جائے گا۔پس اے لوگو! اس گروہ سے زینب کا تعلق پیدا کر کے اُسے بھی اس ہلاکت میں نہ ڈالو۔یاد رکھو کہ یہ فتنہ معمولی نہ ہوگا بلکہ آسمان پر بھی اس سے تہلکہ پڑ جائے گا پس اس کام کی جرات نہ کرو۔او پر جو تشریح بیان کی جاچکی ہے اس سے باقی سب باتیں تو ظاہر ہیں البتہ لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ کاحل رہ جاتا ہے کیا واقعہ میں اس الہام سے اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ زینب کی شمولیت اس فتنہ میں شیخ مصری صاحب سے شادی کی وجہ سے ہوئی ہے اس لئے اب ہم ابتداء کی تاریخ کو دیکھتے ہیں کہ اس میں اس کا کیا حل ہے۔سو ہمیں اس الہام کا ایک واضح شانِ نزول مل جاتا ہے جو یہ ہے کہ 1908ء کے شروع میں حافظ احمد اللہ خان صاحب مرحوم کی دولڑکیوں کی شادی کی تجویز ہوئی جن میں سے بڑی کا نام زینب اور چھوٹی کا نام کلثوم تھا۔زینب کے متعلق اور بھی بعض لوگوں کی خواہش تھی چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی شادی شیخ مصری صاحب سے ناپسند کی لیکن حسب عادت زیادہ زور نہیں دیا۔انہی دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا کہ لَا تَقْتُلُوا زینب زینب کو ہلاک مت کرو۔حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم نے دوسرے شخص کو کسی نہ کسی وجہ سے ناپسند کیا اور یہ خیال کیا کہ اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کا مشورہ غلط ہے وہاں شادی نہ کی جائے بلکہ مصری صاحب سے شادی کی جائے اور خیال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رائے کو الہام نے رڈ کر دیا ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات نہ مانی اور شیخ مصری صاحب سے شادی کر دی۔چنانچہ یہ الہام 9 فروری 1908ء کو ہوا اور 17 فروری 1908ء کو شیخ مصری صاحب کا نکاح زینب